انوارالعلوم (جلد 15) — Page 396
انوار العلوم جلد ۱۵ اہم اور ضروری امور صلى الله عوام مگر وہ میرے بھائی بھائی ہوں گے ۔ پس جس آنکھ سے آپ نے صحابہ کو دیکھا نا ممکن ہے کہ آج بھی تیرہ سو سال گزرنے پر ہم اسی آنکھ سے آپ کی تعلیم کو نہ دیکھیں ۔ کیا کیا رسوم تھیں جن سے رسول کریم ﷺ نے ہمیں بچایا ا ، کیا کیا کیا کیا اعمالِ اعما بد تھے جن سے آپ نے بنی نوع انسان کو نجات صلى الله دلائی ، میں تو بعض دفعہ جب یہ سوچتا ہوں کہ اگر محمد رسول اللہ ﷺ نہ آ کہ اگر محمد رسول اللہ علیہ نہ آتے تو کیا ہوتا تو مجھے جنون ہونے لگتا ہے۔ ایسے مہربان باپ کی وفات کے قریب کی نصیحت تم سمجھ سکتے ہو کہ کتنی اہم ہو گی باپ بیٹے سے محبت کرتا ہے بیٹا باپ سے محبت کرتا ہے اگر دوسرے وقتوں میں یہ محبت بالکل اور قسم کی ہوتی ہے تو وفات کے وقت بالکل اور قسم کی ۔ رسول کریم کو بھی جب بتایا گیا کہ آپ کی وفات اب قریب ہے تو حجۃ الوداع کے موقع پر جس کے بعد آپ نے کوئی حج نہیں کیا اور جس کے صرف اسی دن بعد آپ وفات پاگئے آپ نے فرمایا اعلان کر دو الصَّلوةُ جَامِعَةٌ یہ لوگوں کو جمع کرنے کا ایک طریق تھا کہ سب لوگوں کو کہا جاتا اے لوگو عبادت کیلئے جمع ہو جاؤ۔ جب سب صحابہ اکٹھے ہو گئے تو آپ نے ان کے سامنے ایک تقریر کی جو ایسی درد ناک تھی کہ کوئی شخص نہیں تھا جس کی آنکھیں اس وقت چشمہ کی طرح پھوٹ پھوٹ کر نہ بہہ رہی ہوں ۔ ایک صحابی اس وقت کھڑے ہوئے اور انہوں نے کہا يَا رَسُولَ اللهِ! کیا یہ نصیحت الوداعی ہے اور کیا ہم سمجھ لیں کہ اب آپ کی وفات آگئی ؟ کے اس وقت رسول کریم ﷺ نے جو باتیں کہیں ان میں سے ایک آپ کی وہ وصیت ہے جس کا میں آج ذکر کرنا چاہتا ہوں اور تمہیں بتانا چاہتا ہوں کہ وہ شفیق باپ جس نے اپنی روحانی اولاد کی بہبودی کیلئے تمام عمر صرف کر دی اس نے عین اس وقت جبکہ اسے اپنی وفات کا الہام ہو چکا تھا تمہیں ایک وصیت کی ہے اور اس نے وصیت کرتے ہوئے تمہیں یہ حکم بھی دیا ہے کہ تم اس وصیت کو اپنے دوسرے بھائیوں تک پہنچاؤ۔ پس ایسے شفیق باپ کی آخری وصیت کی جو اہمیت ہو سکتی ہے ہر شریف بیٹا اس کا احساس کر سکتا ہے اور چونکہ ہم سب آپ کی روحانی اولاد میں سے ہیں اس لئے جس نظر سے صحابہؓ نے آپ دیکھا اسی نظر سے دیکھنا ہمارا کام ہے اور ہم میں سے ہر شخص کا یہ فرض ہے کہ وہ اس وصیت کو کو ور پورا کرنے کیلئے کھڑا ہو جائے ۔ وہ وصیت یہ ہے۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَى بَطْنَ الْوَادِي فَخَطَبَ النَّاسَ وَقَالَ إِنَّ دِمَاءَ كُمْ وَأَمْوَالَكُمْ وَأَعْرَاضَكُمْ حَرَامٌ عَلَيْكُمْ كَحُرُمَةِ