انوارالعلوم (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 394 of 675

انوارالعلوم (جلد 15) — Page 394

انوار العلوم جلد ۱۵ کے سامنے دکھائے جاتے ہیں کافروں کے سامنے نہیں دکھائے جاتے ۔ اہم اور ضروری امور پھر مرض الموت کا ایک واقعہ بتاتا ہے کہ آپ صحابہؓ سے کس قدر شفقت رکھتے تھے۔ احادیث میں آتا ہے جب آپ کی وفات قریب آئی تو آپ سخت کرب اور اضطراب کی حالت میں کبھی دایاں پہلو بدلتے اور کبھی بایاں اور پھر فرماتے ماتے خدا یہود اور نصاری پر لعنت کرے کہ انہوں نے اپنے انبیاء پنے انبیاء کی قبروں کو مسجد میں بنا لیا ہے۔ سے ہے۔ سے یہ کتنی شفقت ہے جو اپنی امت کے لئے رسول کریم ﷺ نے ظاہر فرمائی کہ وفات کے وقت بھی آپ انہیں بار بار بتاتے تھے کہ دیکھنا شرک کے قریب نہ جانا۔ اگر باقی انبیاء بھی اسی رنگ میں اپنی اُمت کی نگرانی کرتے تو وہ کہاں گمراہ ہوتیں۔ پھر ایک دفعہ مدینہ میں دشمن کا کچھ خطرہ محسوس ہوا اور خیال ہونے لگا کہ کہیں وہ مدینہ پر حملہ نہ کر دے۔ ان دنوں یہ عام افواہ تھی کہ روما کی حکومت مدینہ پر حملہ کرنا چاہتی ہے۔ ایک رات اچانک مدینہ میں شور مچ گیا اور سمجھا جانے لگا کہ عیسائی لشکر حملہ آور ہو گیا ہے ۔ صحابہ ادھر اُدھر دوڑ پڑے اور کچھ مسجد میں جمع ہو گئے ۔ حضرت عمرو بن العاص بھی انہی میں سے تھے جو مسجد میں جمع ہوئے اور جن کی رسول کریم ﷺ نے بعد میں بڑی تعریف کی کہ انہوں نے خوب ہوشیاری سے کام لیا۔ غرض صحابہ جمع ہوئے اور انہوں نے فیصلہ کیا کہ گھوڑوں پر سوار ہو کر باہر صلى الله عروسه ایک چکر لگایا جائے اور دیکھا جائے کہ کیا حالت ہے۔ا۔ حالت ہے۔ اتنے میں وہ کیا دیکھتے ہیں کہ رسول کریم علی اکیلے باہر سے تشریف لا رہے ہیں ۔ آپؐ نے صحابہ کو دیکھ کر فرمایا کہ میں شور سن کر اکیلا یکھنے کیلئے چلا گیا تھا کہ کیا ہوا مگر معلوم ہوا ہے کہ کوئی خطرہ کی بات خطرہ کی بات نہیں ۔ کے گویا صحابہ تو محمد رسول اللہ ﷺ کی حفاظت کیلئے آپؐ کے دروازے پر ؟ آپ کے دروازے پر جمع ہوئے اور محمد رسول اللہ علی یہ صلى الله ۔ صحابہؓ کی حفاظت کیلئے ان سے بھی پہلے اکیلے اپنے گھر سے باہر تشریف لے گئے ۔ صلى الله غرض بہت سے واقعات ہیں جن سے تم یہ معلوم کر سکتے ہو کہ ہمارا محبوب ہم سے کیسی محبت کرنے والا تھا اور پھر تم یہ بھی نتیجہ نکال سکتے ہو کہ جو باپ اپنی اولاد سے اتنی محبت کرنے والا ہو اس سے اس کی روحانی اولاد نے کتنی شاندار محبت کی ہوگی ۔ میں نے ایک دفعہ رویا میں دیکھا جیسے امرتسر میں ملکہ کا سٹیچو ہوا کرتا تھا ایسا ہی ایک سنگ مرمر کا چبوترہ ہے اور اس کے قریب ایک نہایت خوبصورت بچہ ایسی حالت میں کھڑا ہے کہ ایک گھٹنا اس نے ٹیکا ہوا ہے اور دوسرا اس نے جھکایا ہوا ہے ۔ اس کا رنگ سفید اور اس کے نقوش بہت خوبصورت ہیں۔ میں نے دیکھا کہ اس بچہ نے آسمان کی طرف اپنی آنکھیں اُٹھائی ہوئی ہیں ۔