انوارالعلوم (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 392 of 675

انوارالعلوم (جلد 15) — Page 392

انوار العلوم جلد ۱۵ اہم اور ضروری امور کھڑا ہو گیا کہ ممکن ہے کسی کو میری شکل دیکھ کر خیال آ جائے اور وہ مجھے کچھ کھانے کیلئے دے دے۔ اتنے میں کیا دیکھا کہ حضرت ابو بکر آ رہے ہیں میں نے ان کے سامنے ایک قرآنی آیت پڑھی جس میں بھوکوں کو کھانا کھلانے کا ذکر آتا ہے اور پوچھا کہ اس کے معنی کیا ہیں؟ وہ اس آیت کی ایک تفسیر کر کے آگے چل دیئے ۔ حضرت ابو ہریرہؓ اس موقع پر کہتے ہیں میں نے اپنے دل میں کہا یہ آ گئے تھے بڑا قرآن جاننے والے ۔ کیا مجھے اس آیت کے معنی نہیں آتے تھے۔ میں نے تو اس لئے پوچھا تھا کہ وہ سمجھ کر مجھے کچھ کھلا دیں مگر انہوں نے مطلب بتا دیا اور چلے گئے۔ پھر حضرت عمر کو آتے دیکھا تو میں نے ان کے سامنے بھی وہی آیت پڑھ دی وہ بھی اس کا مطلب بتا کر چل دیئے ۔ حضرت ابو ہریرہ حضرت ابو ہریرہ پھر کہتے ہیں میں نے اپنے دل میں کہا عمر سمجھتے ہیں انہیں بڑا قرآن آتا ہے بھلا مجھے ان سے کم قرآن آتا ہے میں نے تو اس لئے پوچھا تھا کہ وہ سمجھ جاتے اور مجھے کچھ کھلا پلا دیتے مگر انہوں نے بھی ایک معنی بتائے اور چلے گئے ۔ وہ کہتے ہیں اب میں حیران کھڑا تھا کہ کیا کروں کہ اتنے میں مجھے پیچھے سے ایک نہایت ہی شیریں آواز آئی ۔ ابو ہریرہ بھوکے ہو؟ میں نے مُڑ کرد ۔ انے مڑ کر دیکھا تو رسول کریم کھڑے تھے اور جس بات کو ابو بکر اور عمر میرے نہ پہچان سکے اسے رسول کریم ﷺ نے ا۔ نے اپنے گھر بیٹھے میری ، میری آواز سے پہچان لیا۔ میں آپ کے پاس گیا تو آپ نے کھڑ کی کھولی اور فرمایا ادھر آؤ۔ پھر فرمانے لگے ۔ ہمارے گھر میں بھی کھانے کیلئے کچھ نہیں تھا ایک دوست نے ابھی ابھی کچھ دودھ بھیجا ہے میں چاہتا ہوں کہ مسجد میں اور بھی جس قدر لوگ ایسے موجود ہوں جنہوں نے کچھ کھایا نہ ہو تو ان سب کو بلا لاؤ۔ وہ کہنے لگے میں نے دل میں کہا کہ پیالہ ایک ہے اور اگر کچھ اور بھی پینے والے آ گئے تو میرے لئے کیا بچے گا مگر رسول کریم ﷺ کا چونکہ حکم تھا اس لئے چلا گیا۔ دیکھا تو ایک نہ دو بلکہ سات آدمی کھڑے ہو گئے اور کہنے لگے کہ ہم نے بھی کچھ نہیں کھایا۔ میں ان سب کو اکٹھا کر کے رسول کریم ما کے پاس لایا۔ آپ نے دودھ کا پیالہ لیکر ان میں سے ایک شخص کو دے دیا اور اس نے پینا شروع منہ سے نہ صلى الله صلى الله کر دیا۔ میں نے اپنے دل میں کہا کہ اب میرے لئے تو کچھ نہیں بچے گا مگر خیر اس نے پیا اور کچھ صلى الله چھوڑ دیا۔ میں نے کہا کہ اسے کچھ تو شرم آئی ہے اہے سارا دودھ تو نہیں پی گیا مگر رسول کریم ﷺ نے علی اسے فرمایا اور پیو ۔ اب میں بڑا پریشان ہوا کہ آگے تو کچھ بچ بھی گیا تھا مگر اب کیا بچے گا۔ اس صلى الله عل وسه نے بھی پیالے کو منہ سے لگا لیا اور دودھ پینا شروع کر دیا جب بس کر چکا تو رسول کریم ﷺ نے فرمایا اور پیو ۔ پھر اس نے اور دودھ پیا۔ جب سیر ہو گیا تو میں نے سمجھا کہ اب میری باری آئے