انوارالعلوم (جلد 15) — Page 390
انوار العلوم جلد ۱۵ اہم اور ضروری امور اس اکلوتے روحانی بیٹے کی روحانی نسل تھے اور اگر وہ ہلاک ہو جاتے تو آپ کی روحانی نسل ماری جاتی اور چونکہ آپ خدا تعالیٰ کے اکلوتے روحانی بیٹے تھے اس لئے آپ کی نسل کے مارے جانے کے یہ معنی تھے کہ دنیا میں خدا کا کوئی نام لیوا باقی نہ رہتا یہی وجہ ہے کہ رسول کریم ﷺ نے جب بدر کے موقع پر دیکھا کہ مسلمان تھوڑے ہیں اور کفار زیادہ ۔ پھر وہ ساز و سامان سے مسلح ہیں اور ان کے پاس بہت کم سامان ہے اور بظاہر ان کے بچنے کی کوئی امید نہیں تو وہ خدا تعالیٰ کے حضور جھکے اور انہوں نے کہا اے میرے روحانی باپ! آج دنیا میں صرف میرے ذریعہ سے تیری روحانی نسل قائم ہے اگر آج میری نسل ماری گئی تو اس کے معنی یہ : یہ ہوں گے کہ نہ میری نسل رہے گی اور نہ تیری نسل رہے گی ۔ اس اصل کو مد نظر رکھ کر محمد رسول اللہ ﷺ نے اپنی اُمت کی جس محنت سے تربیت کی اور کسی نبی نے نہیں کی کیونکہ آپ جانتے تھے کہ یہ صرف میری روحانی اولا د ہی نہیں بلکہ چونکہ میں اکلوتا ہوں یہ میرے روحانی باپ کے فیض کے جاری رکھنے والی ایک ہی نسل ہے اس لئے میں نے ان کی تربیت اپنی اولاد سمجھ کر ہی نہیں کرنی بلکہ اس خیال سے بھی کرنی ہے کہ میرے روحانی باپ کا فیضان بھی ان کے بغیر بند ہو جاتا ہے۔ باقی ہر نبی کو اپنی اُمت کے متعلق صرف یہ خیال رہتا تھا کہ وہ اس کی اُمت ہے۔ حضرت عیسٹی اپنی امت کے متعلق جانتے تھے کہ وہ ان کی امت ہے، حضرت موسی اپنی اُمت کے متعلق جانتے تھے کہ وہ ان کی اُمت ہے حضرت نوح اپنی اُمت کے متعلق جانتے تھے کہ وہ ان کی اُمت ہے مگر محمد رسول اللہ ﷺ یہ جانتے تھے کہ یہ میری ہی اُمت نہیں بلکہ میرے اللہ کی بھی اُمت ہے ۔ پس ان کی محبت اپنی اُمت سے دوہری تھی کیونکہ وہ جانتے تھے کہ ان کے مرنے سے صرف میری نسل کا ہی انقطاع نہیں بلکہ میرے خدا کی روحانی نسل کا بھی انقطاع ہے اس لئے آپ کی تربیت قومی میں اس احساس کا بہت بڑا دخل تھا اور آپ نے جس محنت اور محبت سے تربیت کی اس کی نظیر اور کہیں نظر نہیں آتی ۔ میں اس کی ایک مثال دیتا ہوں جس سے آپ لوگ اندازہ لگا سکیں گے کہ جذبات محبت کیسا شاندار نظارہ پیدا کر دیا کرتے ہیں۔ حضرت خلیفہ اول جب گھوڑے سے گر کر سخت بیمار ہو گئے اور آپ کی حالت ایسی نازک ہو گئی کہ خیال کیا جاتا تھا شاید آپ جانبر نہ ہوسکیں ۔ تو ایک دن جبکہ آپ کی حالت سخت نازک تھی میں آیا اور سارا دن آپ کے پاس بیٹھا رہا۔ انہی دنوں میرا بیٹا ناصر احمد بھی سخت بیمار تھا۔ شدید قسم کی اسے پیچیش تھی بار بار خون آتا اور ساتھ آؤں بھی اور اس کی یہ تکلیف اتنی بڑھ گئی کہ اس کی والدہ نے یہ خیال کیا کہ اب وہ شاید مرنے والا ہے ۔ چنانچہ عصر صلى الله