انوارالعلوم (جلد 15) — Page 11
انوار العلوم جلد ۱۵ انقلاب حقیقی روحانی زندگی بخشتا ر ہے جھوٹا نہیں ہو سکتا ۔ اور اس کے متعلق یہ تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کی طرف سے تھا۔ اسی بناء پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ حضرت کرشن اور حضرت رام چندر اور حضرت بُدھ اللہ تعالیٰ کے نبی تھے ۔ پس مخالفین کا یہ اعتراض کہ یہ مسئلہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے پاس سے بنالیا ہے صرف قرآنی علوم سے ان کی بے خبری کا ثبوت ہے ورنہ اسی آیت میں جو اس وقت میں نے پڑھی ہے اور اور کئی آیات میں یہ اصل موجود ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے فَأَمَّا الزَّبَدُ فَيَذْهَبُ جُفَاء کہ جو بے فائدہ چیز ہوگی وہ ضائع ہو جائے گی ۔ والا مَا يَنْفَعُ النَّاسَ فَيَمْكُتُ فِي الْأَرْضِ مگر جو لوگوں کو نفع دینے والی چیز ہو وہ قائم رہے گی اور کون کہہ سکتا ہے کہ خدا تعالیٰ پر افتراء کرنا نفع مند چیز ہے۔ افتراء یقیناً انسان کو ہلاک کرنے والا فعل ہے اور اس کا دنیا میں جڑھ پکڑ جانا تو الگ رہا اللہ تعالیٰ تو مفتری کو عذاب دیئے بغیر نہیں چھوڑتا۔ پس اگر کوئی تحریک دنیا میں کامیاب طور پر قائم رہتی ہے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ وہ یقیناً دنیا کیلئے کوئی ایسا پیغام لاتی ہے جو مفید ہے اور یہ خیال کہ ایک کذاب اور مفتری بھی ایسا پیغام لا سکتا ہے جو لوگوں کیلئے دینی رنگ میں مفید ہوا اور دنیا میں قائم رہے کسی احمق کے ذہن میں ہی آئے تو آئے کوئی دانا ایسا خیال نہیں کر سکتا ۔ جو اصلاح کا ذریعہ صلح یا جنگ سے دوسرا اصل جو دنیا میں رائج ہے اور جو کے مذہبی اور دُنیوی دونوں قسم کی تحریکوں کی کامیابی کیلئے ضروری ہوتا ہے یہ ہے کہ اصلاح کے ہمیشہ دو ذرائع ہوتے ہیں یا صلح یا جنگ ۔ یعنی یا تو صلح کے ساتھ وہ پیغام پھیلتا ہے یا جنگ اور لڑائی کے ساتھ پھیلتا ہے۔ یا تو یہ ہوتا ہے کہ وہ باتیں دنیا میں پھیلا دی جاتی ہیں لوگ اُن پر بخشیں کرتے ہیں اور آخر لوگ انہیں اپنا لیتے ہیں اور اپنے عقائد میں شامل کر لیتے ہیں ۔ جیسے دنیا میں پہلے لوگ یہ کہا کرتے تھے کہ زمین چپٹی ہے بلکہ اب تک بھی بعض لوگ ایسے موجود ہیں جو زمین کو گول نہیں سمجھتے بلکہ چپٹی سمجھتے ہیں ۔ چنانچہ میں ایک دفعہ لاہور گیا اور اسلامیہ کالج کے ہال میں میں نے لیکچر دینا شروع کیا تو ایک شخص میرے لیکچر میں ہی کھڑا ہو گیا اور کہنے لگا۔ سوال جواب کا بھی موقع دیا جائے گا یا نہیں؟ پریذیڈنٹ نے پوچھا کہ آپ کیا کہنا چاہتے ہیں ؟ وہ کہنے لگا : میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ زمین گول نہیں بلکہ چپٹی ہے اور مجھ