انوارالعلوم (جلد 15) — Page 372
انوار العلوم جلد ۱۵ مستورات سے خطاب کے پاس ایک دفعہ ایک عورت آئی اور اس نے کہا يَا رَسُولَ اللهِ! میرا خاوند صدقہ دینے سے منع کرتا ہے کیا میں پوشیدہ طور پر صدقہ دے دیا کروں؟ آپ نے فرمایا۔ ہاں ہے۔ گویا ان معاملات میں عورت کو حق دیا گیا ہے کہ وہ خاوند کے مال سے بغیر دریافت کئے خرچ کر سکتی ہے ۔ پس ان حقوق کو جو خدا تعالیٰ نے تمہیں دیئے ہیں یاد رکھو اور اس کے احسانات کی قدر کرو تا کہ تمہاری ترقی ہو۔ اب میں ایڈریس کے متعلق کچھ کچھ کہنا کہنا چاہتا ہوں ۔ اس میں میں آ ایک غلطی کی گئی ہے اور وہ یہ کہ صرف قادیان کی لجنہ کا حق نہیں تھا کہ وہ انفرادی رنگ میں اپنی طرف سے ایڈریس پیش کر دیتی بلکہ باہر کی لجنات کا بھی حق تھا اور کوئی وجہ نہیں تھی کہ ان کو شامل نہ کیا جاتا۔ قادیان کی لجنہ کو اس لئے خصوصیت حاصل نہیں کہ وہ ایک ممتاز لجنہ ہے بلکہ اس لئے فوقیت حاصل ہے کہ وہ مرکزی لجنہ ہے۔ اگر وہ اپنے نام کے ساتھ صرف قادیان کا نام نہ لکھتیں تو دوسروں کے حوصلے وسیع ہو جاتے اور تمام لجنات کی طرف سے مشتر کہ ایڈریس ہو جاتا ۔ اس کے بعد میں جماعت کی مستورات کو اس امر کی طرف توجہ دلاتا ہوں کہ انہیں اپنے اپنے مقام پر لجنات قائم کرنی چاہئیں اور کام کرنے والی عورتیں اس میں داخل کرنی چاہئیں ۔جس طرح دماغ بات نہیں کر سکتا اسی طرح جب تک ہاتھ نہ ہوں انسان کوئی کام نہیں کر سکتا ۔ اگر کسی جگہ آگ لگ جائے اور ایک لنگڑا آدمی وہاں ہو تو اس کا دماغ فوراً یہ فیصلہ کر دے گا کہ بھاگ جا لیکن اس کے پاؤں جواب دے رہے ہوں گے اور باوجود دماغ کے فیصلہ کے وہ وہ بھا بھاگ نہیں سکے گا اسی طرح اگر ایک عورت کا بچہ گڑھے میں گر جائے تو باوجود اس کے کہ عورت کا دماغ کہے گا کہ اسے نکال اگر اس کے ہاتھ نہیں تو وہ نکال نہیں سکے گی ۔ لجنات بھی نظام سلسلہ میں بازو کی حیثیت رکھتی ہیں اور ضروری ہے کہ تمام مقامات پر ان کا قیام کیا جائے ۔ پس اپنی اپنی جگہ لجنات قائم کرو اور اپنی اخلاقی تعلیمی اور دینی تربیت کا سامان کرو۔ اس وقت تک صرف پچیس لجنات قائم ہیں حالانکہ مردوں کی ساڑھے سات سو انجمنیں ہیں ۔ تمہیں چاہئے کہ اس سُستی کو دور کرو اور ہر جگہ لجنہ اماءاللہ قائم کرنے کی کوشش کرو۔ حضور کی تقریر ابھی جاری تھی کہ ایک انگریز نو مسلم خاتون کا تہنیت نامہ انگلستان کی تا حدی خواتین کی نمائندہ انگریز نو مسلم خاتون محترمہ سلیمہ صاحبہ تشریف لائیں ۔ حضور نے از راہ کرم اپنی تقریر کو بند