انوارالعلوم (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 356 of 675

انوارالعلوم (جلد 15) — Page 356

انوار العلوم جلد ۱۵ خدام سے خطاب صلى عروسه کا جاری کردہ ہے۔ اسی طرح میری خلافت کے ایام میں بھی بیسیوں امور ایسے پیش آئے کہ جب میں نے ان کو شروع کیا تو لوگوں نے اعتراض کیا اور کہا کہ یہ ایسا بوجھ ہے جسے قوم اُٹھا نہیں سکتی مگر آخر وہ کام خدا تعالیٰ نے کر دیئے ۔ میرا تو یہ ہمیشہ سے قاعدہ ر رہا ہے ہے کہ جب پوری سوچ بچار اور احتیاطوں کے باوجود میں نے دیکھا کہ کام ضروری ہے تو پھر میں نے کوئی پرواہ نہیں کی کہ کیا نتیجہ ہوگا اور تو كُلاً عَلَی اللہ اسے شروع کر دیا اور یہی سمجھا کہ اگر یہ کام اچھا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے خود تکمیل تک پہنچا دے گا۔ پس یاد رکھو کہ کسی کام کو شروع کرتے وقت یہ خیال کرنا کہ لوگ مانتے نہیں اول درجہ کی بزدلی ہے۔ تمہیں لوگوں سے کیا اگر وہ کام اچھا ہے تو تم خودا سے کرو خواہ بالکل اکیلے ہوا سے شروع کر دو دوسروں کی ذمہ داری تم پر نہیں تم اپنا فرض ادا کرنا شروع کر دو۔ رسول کریم ﷺ کو بھی اللہ تعالیٰ یہی یہی فرماتا فرماتا۔ ہے کہ تم پر اپنے نفس کی ذمہ داری ہے لوگوں کی نہیں ۔ پس خدام الاحمد یہ اپنے آپ کو اُس وقت تک مفید وجود نہیں بنا سکتے جب تک کہ وہ اس یقین اور تو کل پر اپنے کاموں اپنے کاموں کی بنیاد نہ رکھیں گے کہ جو کام اچھا ہے اس میں ہم نے دوسروں کو نہیں دیکھنا کہ وہ شامل ہوتے ہیں یا نہیں تم کو اس سے کیا کہ کوئی ساتھ ہو گا یا نہیں تم اپنا فرض ادا کرو۔ یہ خیال بھی بالکل غلط ہے کہ اگر کوئی اور ساتھ نہ ملا تو سبکی ہوگی ۔ دیکھو اس وقت تک جتنے انبیاء گزرے ہیں وہ بھی اگر اسی سبکی کے خیال سے کام کرنے سے محترز رہتے تو دنیا کا نقشہ کیا ہوتا ۔ ان میں سے کسی نے بھی اِس سُبکی کا خیال نہیں کیا۔ حضرت آدم کو جب اللہ تعالیٰ نے پیغام دیا تو انہوں نے اس کا خیال نہیں کیا ۔ حضرت نوح کو دیا تو انہوں نے یہ خیال نہیں کیا کہ نتیجہ کیا ہو گا ۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو جب یہ پیغام دیا تو وہ کب سوچنے بیٹھے کہ انجام کیا ہوگا ۔ ان میں سے کسی نے بھی انجام کی پرواہ نہیں کی بلکہ جسے بھی حکم ملا وہ کام کرنے لگ گیا اور ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ سے نصرت مانگتا رہا۔ اگر یہ کام انسانی ہوتا تو حالات کو مد نظر رکھ کر بتاؤ کہ ان کی ناکامی میں شبہ ہی کیا تھا۔ یہ سب انبیاء بڑے بڑے دعوے لیکر مبعوث ہوئے تھے ۔ حضرت موسی ، حضرت عیسی ، رسول کریم یا ان میں سے کس کا دعوئی چھوٹا تھا۔ پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا دعوی کتنا بڑا تھا۔ مگر ان میں سے کب کسی نے یہ خیال کیا کہ اسے کون مانے گا ۔ ان کے سامنے صرف یہی بات تھی کہ خدا تعالیٰ کے ارشاد کی تعمیل ہو یہ خیال بالکل نہ تھا کہ کوئی مانتا ہے یا نہیں ۔ کوئی شخص کہہ سکتا ہے کہ نبی کو اس بات کا علم ہوتا ہے کہ وہ جیت جائے گا اس لئے وہ پر واہ نہیں کرتا۔ مگر میں کہتا ہوں کہ مومن کو بھی اس کا پتہ ہوتا ہے۔ قرآن کریم میں مومن کے لئے بھی کامیابی کا وعدہ موجود ہے صلى الله