انوارالعلوم (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page xxviii of 675

انوارالعلوم (جلد 15) — Page xxviii

انوار العلوم جلد ۱۵ تعارف کتب (۲۱) میں اسلام کو کیوں مانتا ہوں؟ حضرت خلیفة المسیح الثانی نے یہ معرکۃ الآراء تقریر مؤرخہ ۱۹ / فروری ۱۹۴۰ء کو بوقت ساڑھے آٹھ بجے رات بمبئی ریڈیو پر ارشاد فرمائی جو بعد میں کتابی صورت میں شائع ہوئی ۔ یڈیو پر فرمائی جوبعد میں کتابی میں ۔ حضور نے اپنی اس مختصر مگر جامع و مانع تقریر کے آغاز میں ہی اس سوال کا جواب دیتے ہوئے فرمایا کہ:۔ اسی دلیل سے جس کی بناء پر کسی اور چیز کو مانتا ہوں یعنی اس لئے کہ وہ سچا ہے۔ اور کسی چیز کا سچا ہونا اس پر ایمان لانے کی کافی دلیل ہے“۔ اس اجمال کی قدرے وضاحت کرتے ہوئے حضور نے اسلام کی درج ذیل پانچ بنیادی خوبیاں بیان فرمائی ہیں :۔ 1 اسلام ہر وہ امر جس کو ماننا ضروری قرار دیتا ہے اُس پر ایمان لانے کیلئے دلیل بھی دیتا ہے۔ ۲ ♡ له اسلام صرف قصوں پر اپنے دعوی کی بنیاد نہیں رکھتا بلکہ ہر شخص کو تجربہ کی دعوت دیتا ہے۔ اسلام اسلام یہ سبق دیتا ہے کہ خدا تعالیٰ کے کلام اور کام میں اختلاف نہیں ہوتا۔ اسلام کسی کے جذبات کو کچلتا نہیں بلکہ اُن کی صحیح راہنمائی کرتا ہے ۔ اسلام نہ صرف اپنے ماننے والوں سے بلکہ سب دنیا سے انصاف بلکہ محبت کرنے کی تعلیم دیتا ہے۔ (۲۲) موجودہ جنگ میں برطانیہ کی کامیابی کیلئے دعا کی تحریک جنگ عظیم دوئم کے دوران حکومت برطانیہ کی طرف سے مؤرخہ ۲۶ رمئی بروزاتو ۱۹۴۰ء کے دن اس جنگ میں کامیابی کے لئے خصوصی دعا کرنے کی تحریک پر مبنی ایک اعلان کیا گیا۔ چنانچہ اولی الامر کے حکم کے تحت حکومت وقت کے ساتھ ہمدردی اور اظہار یکجہتی کرتے حکم ہوئے قادیان میں بھی اُس روز خصوصی دعا کرنے کا اعلان ہوا اور یہ تقریب بیت اقصیٰ میں منعقد روز ہوئی۔ اِس دُعائیہ کی تقریب میں حضرت مصلح موعود بھی بنفس نفیس شامل ہوئے اور دعا سے قبل بند