انوارالعلوم (جلد 15) — Page 246
انوار العلوم جلد ۱۵ سیر روحانی تقریر (۱) آثار قدیمہ کا مفہوم نہیں سمجھتے ہوں گے اس لئے اُن کی واقفیت کے لئے میں یہ بتا دینا چاہتا ہوں کہ یہ لفظ عربی زبان کا ہے ۔ اثر کے معنے نشان کے ہوتے ہیں ، اُردو میں بھی کہتے ہیں کہ فلاں چیز کا کوئی اثر باقی نہیں رہا ، آثار اس کی جمع ہے اور اس کے معنے ہیں بہت سے نشانات ، قدیمہ کے معنی پرانے کے ہیں ۔ پس آثار قدیمہ کے معنی ہوئے پُرانی چیزوں کے نشانات ، وہ عمارتیں جو زمین میں دب کر نظروں سے غائب ہو جاتی ہیں یا پُرانے سکوں ، پُرانے کپڑوں ، پرانے برتنوں اور پُرانے کاغذوں کو مہیا کرنے کے لئے یہ محکمہ گورنمنٹ نے بنایا ہوا ہے اور اس کا کام ہے کہ خواہ اسے زمین میں دبی ہوئی عمارتیں مل جائیں یا کاغذات مل جائیں یا سکتے مل جائیں انہیں محفوظ کر دے۔ پس یہ محکمہ پرانی یادگاروں کو تلاش کر کے ان سے پُرانے تمدن ، پرانے حالات اور پُرانی ترقیات پر روشنی ڈالتا ہے اور ان کو دنیا میں قائم اور زندہ رکھتا ہے۔ ایسے آثار قدیمہ کے کمروں میں بعض بوسیدہ کپڑے رکھے ہوئے ہوتے ہیں جن کے متعلق یہ کہا جاتا ہے کہ یہ فلاں زمانہ کے ہیں اور ان کو دیکھ کر لوگ اندازہ لگاتے ہیں کہ اُس وقت کے لوگ کس قسم کے کپڑے بنا کرتے تھے ، صناعی کیسی تھی ، یا کچھ پرانے سکے رکھے ہوئے ہوتے ہیں، کچھ پرانے ہتھیار رکھے ہوئے ہوتے ہیں ، کچھ پرانے کاغذات رکھے ہوئے ہوتے ہیں ، کچھ پرانے ٹوٹے ہوئے گھڑے اور برتن رکھے ہوئے ہوتے ہیں ، کچھ ٹوٹی ہوئی چپلیاں ہوتی ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ کپڑا دو ہزار سال پہلے کا ہے، یہ سکہ آج سے تین ہزار سال پہلے استعمال ہوتا تھا ۔ غرض ان سب چیزوں کو اکٹھا کر کے ایک عجائب خانہ بنا دیتے ہیں ۔ امریکہ تک سے لوگ آتے ہیں اور ان وں کو دیکھ دیکھ کر تعریف کرتے ہیں اور جس کسی نے کوئی پرانا چیتھڑا یا کوئی دونی اٹھنی تلاش کر کے دی ہوتی ہے اُس کی بڑی تعریف ہوتی ہے ۔ کہتے ہیں فلاں تو علامہ ہیں ان کا کیا کہنا ہے، انہوں نے آج سے دو ہزار سال پہلے کی استعمال ہونے والی اٹھنی بڑی تلاش سے دستیاب کی ہے اور فلاں عجائب خانہ میں پڑی ہے۔ غرض چند ٹوٹی ہوئی عمارتیں جو زمین میں دب کر نظروں سے غائب ہوگئی تھیں ، چند ٹوٹے ہوئے کتبے، کچھ بوسیدہ کپڑے ، کچھ گھسے ہوئے سکتے ہمٹی اور پتھر کے برتن ، پھٹے ہوئے بوسیدہ کا غذات اور دستاویزات محکمہ آثار قدیمہ کی گل کا ئنات ہوتے ہیں ، جن کو جوڑ جاڑ کر زمانہ سلف کے حالات کو یہ محکمہ اخذ کرتا اور دنیا کے سامنے پیش کرتا ہے اور عالم و جاہل اس کی محنت کی داد دیتے اور اس کے کارناموں کو عزت سے بیان کرتے ہیں ۔ میں بھی ان سے متاثر ہوا ، مگر تغلق کے قلعہ میں جو آثار قدیمہ میں نے دیکھے انہوں نے ان آثار قدیمہ کو میری نگاہ