انوارالعلوم (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 230 of 675

انوارالعلوم (جلد 15) — Page 230

انوار العلوم جلد ۱۵ بانی عسلسلہ احمد یہ کوئی نیا دین نہیں لائے کریں ہم آپ کے ساتھ ہیں ۔ مگر جب بھی کوئی مہاجر با مہاجر بیٹھ جاتا رسول کریم ﷺ پھر فرماتے ۔ على الله اے لوگو ! مجھے مشورہ دو۔ انصار اس وقت تک خاموش تھے کیونکہ وہ خیال کرتے تھے کہ اگر ہم نے کہہ دیا کہ ضرور لڑنا چاہئے تو مہاجرین کہیں یہ خیال نہ کریں کہ یہ لوگ ہمارے بھائیوں اور رشتے داروں کو مروانا چاہتے ہیں ۔ پس وہ اس وقت تک خاموش رہے مگر جب رسول کریم ﷺ نے بار بار فرمایا کہ لو گو مشورہ دو تو ایک انصاری کھڑے ہوئے اور انہوں نے کہا یا رَسُولَ اللهِ! شاید آپ کی مراد ہم سے ہے آپ نے فرمایا ہاں ۔ انہوں نے کہا يَا رَسُولَ اللهِ شاید آپ کی مراد معاہدہ سے ہے جو ہم نے آپ کی مدینہ کی تشریف آوری کے متعلق کیا تھا آپ نے فرمایا ہاں ۔ انہوں نے کہا یا رَسُولَ اللهِ! جس وقت یہ معاہدہ ہوا تھا اس وقت ہم نے آپ کی شان کو پورے طور پر پہچانا نہیں تھا اور غلطی سے یہ معاہدہ کر لیا مگر اس کے بعد جب آپ ہم میں رہے تو ہمیں معلوم ہوا کہ آپ کی کیا شان ہے ۔ معاہدے کا سمندر کی پس اب اس مع ے کا کوئی سوال ہی نہیں ، ، سا۔ سامنے سمندر رتھا تھا انہوں ان نے اس سمند طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا يَا رَسُولَ اللهِ! اگر آپ حکم دیں کہ اس سمندر میں گود جاؤ تو ہم اپنے گھوڑے اس سمندر میں ڈالنے کیلئے تیار ہیں اور يَا رَسُولَ اللهِ ! آپ جنگ کا کیا پوچھتے ہیں۔ خدا کی قسم ہم آپ کے آگے بھی لڑیں گے اور پیچھے بھی لڑیں گے اور دائیں بھی لڑیں گے اور بائیں بھی لڑیں گے اور دشمن آپ تک نہیں پہنچ سکتا جب تک وہ ہماری لاشوں کو روندتا ہوا نہ گزرے سے پھر ان کی محبت کا یہ حال تھا کہ جب بدر کے میدان میں پہنچے تو صحابہ نے ایک اونچی جگہ بنا صلى علی کر رسول کریم ﷺ کو وہاں بٹھا دیا اور پھر انہوں نے ایک دوسرے ے سے سے مشورہ مشو کر کے کے در دریافت کیا کہ سب سے زیادہ تیز رفتار اوٹنی کس کے پاس ہے۔ چنانچہ سب سے زیادہ تیز رفتار اونٹنی لیکر انہوں نے رسول کریم ﷺ کے قریب باندھ دی ۔ رسول کریم ﷺ نے اسے دیکھا تو فرمایا یہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا يَا رَسُولَ اللهِ ! ہم تھوڑے ہیں اور دشمن بہت زیادہ ہے ہم ڈرتے ہیں کہ کہیں ہم تمام کے تمام اس جگہ شہید نہ ہو جائیں ، ہمیں اپنی موت کا تو کوئی غم نہیں يَا رَسُولَ اللهِ! ہمیں آپ کا خیال ہے کہ آپ کو کوئی تکلیف نہ ہو ۔ ہم اگر مر گئے تو اسلام کو کچھ نقصان نہیں ہو گا لیکن آپ کے ساتھ اسلام کی زندگی وابستہ ہے پس ضروری ہے کہ ہم آپ کی حفاظت کا سامان کر دیں۔ يَا رَسُولَ اللهِ! حضرت ابوبکر کو ہم نے آپ کی حفاظت کیلئے مقرر کر دیا ہے اور یہ