انوارالعلوم (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page xxvi of 675

انوارالعلوم (جلد 15) — Page xxvi

انوار العلوم جلد ۱۵ تعارف کتب اس کے بعد حضور نے اپنی علمی قابلیت اور اپنی تحصیل علم کی روئیداد سنائی جو پیشگوئی مصلح موعود کے ان الفاظ کو پورا کرنے والی ہے کہ:۔ دو وہ سخت ذہین و فہیم ہوگا اور دل کا حلیم اور علوم ظاہری و باطنی سے پر کیا جائے گا۔ (۱۹) خلافت را شده حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نے ۱۹۳۹ء میں خلافت جوبلی کی تقریب سعید کے موقع پر خلافت راشدہ کے موضوع پر ایک زبردست تقریر ارشاد فرمائی جو ۲۸ ، ۲۹ دسمبر دو دن جاری رہی یہ معرکۃ الآراء تقریر ۱۹۶۱ء میں کتابی صورت میں پہلی بار شائع ہوئی ۔ یہ کتاب خدا کے فضل سے علمی دنیا میں ایک نہایت بلند پایہ تصنیف ہے جس میں نظام خلافت کی ضرورت واہمیت اور دیگر تمام پہلوؤں پر قرآن کریم ، احادیث اور سنت صحابہ کی رو سے روشنی ڈالی گئی ہے۔ نیز آنحضرت علی کے بعد خلافت راشدہ کی مختصر تاریخ اور حالات و واقعات بیان کئے گئے ہیں اس کے بعد خلافت احمد یہ کے قیام بالخصوص خلافت ثانیہ کے انتخاب کے موقع پر پیدا ہونے والے حالات و واقعات اور مولوی محمد علی صاحب اور ان کے ہم خیال احباب کی طرف سے نظام خلافت کے خلاف سازشوں اور پروپیگ اور پروپیگینڈوں پر تفصیل سے روشنی ڈالی گئی ہے ۔ اس تقریر میں حضور نے نظام خلافت اور خلیفہ وقت کے مقام اور اختیارات پر بھی تفصیل سے بحث فرمائی ہے نیز اس سلسلہ میں اُٹھنے والے بعض اعتراضات اور سوالات کے قرآن وحدیث کی روشنی میں بڑے مدلل اور مسکت عقلی و نقلی دلائل بیان فرمائے ہیں ۔ - نظام خلافت کے مختلف پہلوؤں پر بحث کی بنیاد آیت استخلاف پر رکھتے ہوئے اِس آیت کے مضامین پر بڑی تفصیل سے روشنی ڈالی گئی ہے اور آیت استخلاف پر اُٹھنے والے اعتراضات کے جوابات دیئے گئے ہیں ۔ اس تقریر کے آخر پر حضور نے جماعت کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا کہ:۔ پس ا اے مومنوں کی جماعت اور اے عمل صالح کرنے والو! میں تم سے یہ کہتا ہوں کہ خلافت خدا تعالیٰ کی ایک بہت بڑی نعمت ہے اس کی قدر کرو جب تک تم لوگوں کی اکثریت ایمان اور عمل صالح پر قائم رہے گی خدا اِس نعمت کو نازل کرتا چلا جائے