انوارالعلوم (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 208 of 675

انوارالعلوم (جلد 15) — Page 208

انوار العلوم جلد ۱۵ تربیت اولاد کے متعلق اپنی ذمہ داریوں کو سمجھو جس شخص کی دولڑکیاں ہوں اور وہ ان کو اعلیٰ تعلیم دلواتا ہے اور ان کی اچھی تربیت کرتا ہے تو وہ جنت میں جائے گا تو لڑکیوں کی تعلیم کیلئے جنت کا وعدہ ہے مگر لڑکوں کیلئے نہیں ۔ یہ تربیت کا کام معمولی نہیں ۔ تمہیں خود علم ہو گا تو دوسروں کو علم سکھاؤ گی اس لئے تم پہلے خود تعلیم حاصل کروتا اپنی اولادوں کی صحیح معنوں میں تربیت کر سکو تم لوگوں کا فرض ہے کہ جس قدر جلدی ہو سکے اپنی تعلیم وتربیت کا خیال کرو۔ اگر اپنی تعلیم کی طرف توجہ نہ کرو گی تو قوم درست نہیں ہوگی ۔ اور یقیناً سلسلہ کی جو خدمت تمہارے ذریعہ ہو سکتی ہے اور جو معمولی خدمت نہیں وہ تم سے بالکل نہیں ہو سکے گی ۔ یہ اچھی طرح یا د رکھو کہ اسلام اور سلسلہ کی جو خدمت تم اپنی اولاد کی صحیح تربیت کر کے کر سکتی ہو وہ اور کوئی نہیں کر سکتا ۔ تم کوشش کر کے ان کی بچپن سے ہی اس رنگ میں تربیت کروتا ان کی جانیں سلسلہ کی خدمت کیلئے تیار ہوں ۔ تم ان کو بچپن ہی سے یہ تعلیم دو کہ وہ سچائی پر عامل ہوں ، وہ جھوٹ نہ بولیں کیونکہ اگر تمہارا بچہ جھوٹ بولتا ہے تو وہ تم کو بھی بدنام کرتا ہے اور خدا کو بھی ناراض کرتا ہے۔ تم ان کو یہ تعلیم دو کہ تمہاری جانیں سلسلہ کیلئے ہیں کیونکہ جانی قربانی کرتے وقت سب سے پہلے جو ان کے دل میں جذبہ پیدا ہوتا ہے وہ یہی ہے کہ ہمارے پیچھے ہماری ماؤں کا اور ہماری بیویوں کا کیا حال ہوگا ۔ اگر تم ہی ان کو یہ کہہ دو کہ ہم تب ہی خوش ہوں گی جب تم یا تو فتح پا کر آؤ یا وہاں ہی مارے جاؤ تو پھر ان کے بوجھ ہلکے ہو جائیں گے اور قربانیاں کرنے کے میدان میں وہ دلیر اور چُست گام ہو جائیں گے ۔ وہ اپنی زندگیاں قربان کرنے میں ذرہ بھی لرزہ نہ کھائیں گے ۔ صحابہ نے فتوحات پر فتوحات حاصل کریں لیکن کیوں ؟ اس لئے کہ وہ جانتے تھے کہ ہماری موت ہماری ماؤں کو کوئی صدمہ نہیں پہنچائے گی ، وہ جانتے تھے کہ ہماری موت ہماری بیویوں کو کوئی صدمہ نہیں پہنچائے گی بلکہ ان کیلئے فرحت و خوشی کا موجب ہوگی ۔ اس لئے وہ نڈ رہو کر نکلتے تھے اور فتح حاصل کر کے آتے تھے۔ جنگِ اُحد کے موقع پر ایک عورت نے اپنی قوت ایمان کا وہ مظاہرہ کیا کہ دنیا اس کی مثال پیش کرنے سے صلى الله علیہ سے قاصر ہے ۔ اِس : ۔ اس جنگ کے موقع پر مشہور ہو گیا کہ رسول کریم شہید ہو گئے ہیں ۔ عورتیں بیتاب ہو کر میدانِ جنگ کی طرف بھاگ نکلیں ۔ ایک عورت نے آگے بڑھ کر پوچھا تو ایک سپاہی نے جواب دیا اے دیا اے عورت! تیرا خاوند شہید ہو گیا لیکن اس اس عورت نے کہا میں تو صلى الله رسول اللہ ﷺ کے متعلق پوچھتی ہوں تم مجھے ان کا ہوں تم مجھے ان کا حال بتاؤ لیکن پھر اس آدمی نے کہا کہ تمہارا عروس