انوارالعلوم (جلد 15) — Page 204
انوار العلوم جلد ۱۵ تربیت اولاد کے متعلق اپنی ذمہ داریوں کو سمجھو صلى الله رکھتے تھے۔ ایک دفعہ آپ گھر میں تشریف لائے د۔ ائے دیکھا کہ آپ کی : پ کی بیوی ام حبیبہ ( جو ابو سفیان کی بیٹی تھی ) کی ران پر اپنے بھائی کا سر ہے اور وہ ان کے بالوں سے کھیل رہی ہیں ۔ آنحضرت اے نے فرمایا ۔ اُم حبیبہ کیا آپ کو معاویہ بہت پیارا ہے؟ انہوں نے جواب دیا۔ ہاں ۔ آپ نے فرمایا مجھے بھی بہت پیارا ہے ۔ آجکل کی تعلیم یافتہ عورتیں یہ سمجھنے لگ گئی ہیں کہ ہم بھی وہ سب کام کر سکتی ہیں جو مرد کر سکتے ہیں ۔ اگر مرد گشتی کرتے ہیں تو عورتوں نے بھی کشتی لڑنی شروع کر دی ہے حالانکہ گجا عورتوں کی شرم و حیا اور گجا گشتی ۔ اس طرح عورتیں کہتی ہیں کہ ہم نوکریاں کریں گی حالانکہ اگر وہ نوکریاں کریں گی تو ان کی اولادیں تباہ ہو جائیں گی وہ بچوں کی تربیت کیونکر کر سکیں گی ۔ یہ غلط قسم کی تعلیم ہی ہے جس نے عورتوں میں اس قسم کے خیالات پیدا کر دیئے ہیں ۔ ولایت میں عورتوں کے اس قسم کے طریق اختیار کرنے پر ایک شور برپا ہے چنانچہ جن ملکوں کے لوگوں میں اولا د یں پیدا کرنے کی خواہش ہے وہ یہی چاہتے ہیں کہ عورتوں کیلئے تمام ملازمتوں کے دروازے بند کر دیئے جائیں اور جس کام کیلئے عورتیں پیدا کی گئی ہیں وہی کام کریں حالانکہ گھر میں سب سے قیمتی امانت بچہ ہے اور بچہ کی تعلیم و تربیت ماں کا اولین فرض ہے ۔ اگر عورتیں نوکری کریں گی تو بچوں کی تربیت ناممکن ہے۔ میری غرض اس تمہید سے یہ ہے کہ جہاں خدا تعالیٰ نے عورت کو فکر اور دل و دماغ بخشا ہے تا کہ وہ عرفان حاصل کرے وہاں مردوں اور عورتوں میں اختلاف واشتراک بھی رکھا ہے اور مردوں کو اپنے اختلاف دیکھتے ہوئے اپنے کام کرنے چاہئیں اور عورتوں کو اپنے ۔ ہاں جن باتوں میں اشتراک ہے وہ مرد اور عورت دونوں پر فرض ہیں ۔ مثلاً جہاں مرد کیلئے نماز ، روزہ ، حج ، زکوۃ فرض ہیں وہاں عورتوں پر بھی یہ فرض ہیں تا دونوں اپنے اپنے اعمال کی جزاء وسزا حاصل کریں ۔ اور یہ قانون بھی خدا تعالیٰ کی حکمت کے ماتحت ہے لیکن جہاد کے متعلق رسول کریم نے فرمایا کہ جہاد عورتوں پر فرض نہیں مجھے صرف مردوں کیلئے جہاد کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ صلى الله عل وسه ہاں جنگ میں عورتیں مرہم پٹی کر سکتی ہیں لیے اصل ذمہ داری عورتوں پر بچوں کی تعلیم و تربیت کی ہے اور یہ ذمہ واری جہاد کی ذمہ واری سے کچھ کم نہیں ۔ اگر بچوں کی تربیت اچھی ہو تو قوم کی بنیاد مضبوط ہوتی ہے اور قوم ترقی کرتی ہے اگر ان کی تربیت اچھی نہ ہو تو قوم ضرور ایک نہ ایک دن تباہ ہو جاتی ہے ۔ پس کسی قوم کی ترقی اور