انوارالعلوم (جلد 15) — Page 161
انوار العلوم جلد ۱۵ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ احباب جماعت اور اپنی اولاد سے ایک اہم خطاب نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ احباب جماعت اور اپنی اولاد سے ایک اہم خطاب تحریر فرموده ۱۱ نومبر ۱۹۳۸ء بمقام قادیان ) تشہد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔ سب سے پہلے میں بھی مَنْ لَّمْ يَشْكُرِ النَّاسَ لَمْ يَشْكُرِ اللہ کے مطابق تینوں اداروں کے اساتذہ وطلباء کا اس تقریب کے پیدا کرنے اور ان جذبات کی وجہ سے جو اس تقریب کے پیدا کرنے کے محرک تھے شکر یہ ادا کرتا ہوں اور ان کو وہی تحفہ اسلامی جو ایسے مواقع پر پیش کیا جاتا ہے اور جو بہترین اور مبارک تحفہ ہے پیش کرتا ہوں یعنی جَزَاكُمُ اللَّهُ أَحْسَنَ الْجَزَاءِ۔ تینوں ایڈریس جو اس وقت پیش کئے گئے ہیں وہ گوتین مختلف اداروں کی طرف سے ہیں لیکن تینوں نے اپنے اپنے رنگ میں اتحاد کی صورت پیدا کر لی ہے اور وہ راہ نکال لی ہے جو تعلقات کو ان لوگوں سے وابستہ کرتی ہے جن کی آمد پر یہ ایڈریس پیش ہوئے ہیں۔ تینوں ایڈریس سنتے ہی میرے دل میں خیال آیا کہ ان ایڈریسوں میں ان کی وہی حیثیت بیان کی گئی ہے جو حضرت بابا نانک کی ہے یعنی ہندو انہیں ہندو کہتے ہیں اور مسلمان مسلمان ۔ مدرسہ احمد یہ اور جامعہ احمد یہ نے ان کو جوڑ تو ڑ کر اپنے اندر شامل کر لیا ہے اور تعلیم الاسلام ہائی سکول نے ان کو اپنے ساتھ ملا لیا ہے لیکن خوشی کی بات یہ ہے کہ یہ سب خوش ہو گئے ہیں اور حقیقت بھی یہ ہے کہ اگر ہم اس حقیقت کو سمجھ لیں اور اس حقیقی روح کو سمجھیں جو احمدیت نے ہم میں پیدا کی ہے تو پھر کسی یہ