انوارالعلوم (جلد 15) — Page 157
انوار العلوم جلد ۱۵ اگر تم تحریک جدید کے مطالبات پر عمل کرو گے تو ۔ کھڑے تھے ۔ آپ نے مجھے فرمایا معلوم ہوتا ہے تمہیں بھوک لگی ہے۔ گویا رسول کریم ﷺ نے حضرت ابو ہریرہ کی پیٹھ میں سے وہ چیز دیکھ لی جو حضرت ابو بکر اور حضرت عمر ابو ہریرہ کے منہ سے صلى الله عروسه نہیں دیکھ سکے تھے تھے ۔ ۔ پھر آپ نے فرمایا ادھر آؤ ۔ حضرت ابو ہریرہ گئے تو رسول کریم علی دودھ کا ایک پیالہ لے کر باہر نکلے ۔ حضرت ابو ہریرہ کہتے ہیں دودھ دیکھ کر میں بڑا خوش ہوا اور سمجھا کہ اب اکیلا اسے خوب سیر ہو کر پیوں گا مگر رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ ابو ہریرہ مسجد میں جاؤ اور اگر کوئی اور بھی بھوکا ہو تو اسے بُلا لاؤ۔ حضرت ابو ہریرہ ابو ہریرہ کہتے ہیں میں نے دل میں کہا میں کہا کہ میں تو یہ سمجھتا تھا کہ مجھ مجھ ا اکیلے کو یہ تمام دودھ مل جائے گا مگر اب تو اوروں کو بھی بلا لیا گیا ہے۔ نہ معلوم میرے لئے دودھ بچے یا نہ بچے۔ خیر میں مسجد میں گیا تو وہاں چھ آدمی اور مل گئے ۔ میں نے کہا اب مصیبت آئی آگے تو یہ خیال تھا کہ اگر ایک آدمی ملا تو خیر آدھا دودھ وہ پی لے گا۔ آدھا میں پی لوں گا مگر یہاں تو اکٹھے چھ مل گئے ہیں ۔ یہ اگر پینے لگے تو میرے لئے کچھ بھی نہیں بچے گا مگر چونکہ رسول کریم ﷺ کا حکم تھا اس لئے میں ان کو ساتھ لے کر گیا اور کہا يَا رَسُولَ اللهِ ! یہ چھ بھی میری طرح بھو کے بیٹھے ہیں ۔ اس موقع پر رسول کریم ﷺ نے انہیں کیا عجیب سبق دیا۔ آپ نے فرمایا ابو ہریرہ یہ دودھ کا پیالہ لو اور پہلے ان میں سے ایک کو پلاؤ۔ حضرت ابو ہریرہ کہتے ہیں ۔ میں نے دل میں کہا بس اب میں مارا گیا میرے لئے بھلا کیا بچے گا ۔ چنانچہ پہلے ایک نے دے تو میرے پینا شروع کیا اور پیتا چلا گیا۔ میں نے میں نے سمجھا شاید یہ شرافت کر کے کچھ دودھ چھوڑ دے تو پینے کے کام آ جائے مگر جب وہ پی چکا تو رسول کریم ﷺ نے وہ پیالہ دوسرے کو دے دیا ، پھر تیسرے کو ، پھر چوتھے پانچویں اور چھٹے کو اور میں کا نپتا چلا جاؤں کہ نہ معلوم میرے لئے بھی کچھ بچتا ہے یا نہیں آخر جب وہ سب پی چکے تو رسول کریم ﷺ نے مجھے پیالہ دیا اور میں نے دیکھا کہ وہ اسی طرح لبالب بھرا ہوا ہے جس طرح پہلے تھا۔ آخر میں نے دودھ پینا شروع کر دیا اور پیتا چلا گیا یہاں تک کہ میرا پیٹ بھر گیا اور میں نے کہا يَا رَسُولَ اللهِ ! اب میں سیر ہو گیا ۔ آپ نے فرمایا نہیں اور پیو چنانچہ میں نے پھر پینا شروع کر دیا اور جب بہت پی چکا تو میں نے پھر کہا کہ يَا رَسُولَ اللهِ ! اب تو پیٹ بھر گیا ہے۔ آپ نے فرمایا نہیں اور پیو۔ چنانچہ میں نے پھر پیا یہاں تک کہ مجھے یوں محسوس ہوا کہ میری انگلیوں کی پوروں میں سے بھی دودھ پھوٹ کر نکل رہا ہے۔ صلى الله روسه آخر میں نے کہا يَا رَسُولَ اللهِ ! اب تو میرے پیٹ میں کوئی گنجائش نہیں رہی ۔ رسول کریم علی نے ہنس کر پیالہ مجھ سے لے لیا اور خود بقیہ دودھ پی گئے ۔ کے اس طرح رسول کریم ﷺ نے صلا