انوارالعلوم (جلد 15) — Page 145
انوار العلوم جلد ۱۵ کشمیر ایجی ٹیشن ۱۹۳۸ء کے متعلق چند خیالات یہ نہیں کہ ہم ظاہر میں کچھ کہیں اور باطن میں کچھ ارادہ کریں ۔ ایسے ارادوں میں جن میں سچائی پر بناء نہیں ہوتی کبھی حقیقی کامیابی نہیں ہوتی اور کم سے کم یہ نقص ضرور ہوتا ہے کہ آنے والی نسلیں خود اپنے باپ دادوں کو گالیاں دیتی ہیں اور وہ تاریخ میں عزت کے ساتھ یاد نہیں کئے جاتے ۔ پس میرے نزدیک کسی سمجھوتے مجھوتے سے پہلے ایسے سب امور کا جو اختلافی ہوں مناسب تصفیہ ہو جانا چاہئے تا بعد میں غلط فہمی اور غلط فہمی سے اختلاف اور جھگڑا پیدا نہ ہو۔ اس اصل کے ماتحت جب میں نے اس تحریک کا مطالعہ کیا تو مجھے اخباری بیانات سے کچھ معلوم نہیں ہو سکا کہ آیا مسلم و غیر مسلم کے سیاسی سمجھوتے کی مشکلات کو پوری طرح سمجھ لیا گیا ہے یا نہیں اور مسلم و غیر مسلم کے حقوق کے متعلق جو شکایات ہیں ان کو دور کرنے کی تدبیر کر لی گئی ہے یا نہیں ۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ قوموں کی جدوجہد دو غرضوں میں سے ایک کیلئے ہوتی ہے یا تو اس لئے کہ اس قوم نے کوئی پیغام دنیا تک پہنچانا ہوتا ہے۔ اس صورت میں وہ عواقب و نتائج کو نہیں دیکھا کرتی ، نقصان ہو یا فائدہ وہ اپنا کام کئے جاتی ہے ۔ جیسے اسلام کے نزول کے وقت غریب اور امیر سب نے قربانی کی اور اس کی پروانہیں کی کہ کسے نقصان ہوتا ہے یا کیا ہوتا ہے کیونکہ مادی نتیجہ مد نظر نہ تھا بلکہ پیغام الہی کو دنیا تک پہنچانا مد نظر تھا۔ اس پیغام کے پہنچ جانے سے ان کا مقصد حاصل ہو جاتا تھا، خواہ دنیا میں انہیں کچھ بھی نہ ملتا اور اس پیغام کے پہنچانے میں ناکامی کی صورت میں ان کو کوئی خوشی نہ تھی خواہ ساری دنیا کی حکومت ان کو مل جاتی۔ یا پھر قومی جدوجہد اس لئے ہوتی ہے کہ کوئی قوم بعض دنیوی تکلیفوں کو دور کرنا چاہتی ہے ۔ وہ ہر قدم پر یہ دیکھنے پر مجبور ہوتی ہے کہ جن تکالیف کو دور کرنے کیلئے میں کھڑی ہوئی ہوں وہ اس جدوجہد سے دور ہو سکتی ہیں یا نہیں ۔ اس کی ہر ایک قربانی ایک مادی فائدہ کے لئے ہوتی ہے اور وہ اس مادی فائدہ کے حصول کے لئے جد و جہد کرتی ہے۔ تمام سیاسی تحریکیں اس دوسری قسم کی جد و جہد سے تعلق رکھتی ہیں اور مادی فوائد کو ان میں نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ۔ جب یہ امر ظاہر ہو گیا تو ہمیں سوچنا چاہئے کہ کشمیر کی تحریک کوئی مذہبی تحریک ہے یا سیاسی ۔ اگر سیاسی ہے تو ہمیں غور کرنا چاہئے کہ وہ کون سے فوائد ہیں جن کیلئے اہل کشمیر کو شاں ہیں اور خصوصاً مسلمان ؟ اس سوال کا جواب میں سمجھتا ہوں ہر کشمیری یہ دے گا کہ اس کی جد و جہد صرف اس لئے ہے کہ اس کی بآرام اور خوش زندگی کا سامان کشمیر میں نہیں ہے ۔ نہ اس کی تعلیم کا اچھا انتظام ہے نہ