انوارالعلوم (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 141 of 675

انوارالعلوم (جلد 15) — Page 141

انوار العلوم جلد ۱۵ كُلُّ مَنْ عَلَيْهَا فَان تھی ۔ چوہدری صاحب نے کہا کہ آپ سچ مچ ہی کیوں باتیں نہیں کر لیتیں انہوں نے کہا کیا اس کا انتظام ہو سکتا ہے؟ چوہدری صاحب نے کہا کہ ہاں ہو سکتا ہے ۔ اس پر انہوں نے کہا بہت اچھا پھر انتظام کر دو۔ قرآنی تعلیم کے مطابق ان کی عمر میں وہ پردہ تو تھا ہی نہیں جو جوان عورتوں کیلئے ہوتا ہے۔ وہ وائسرائے سے ملیں اور چوہدری صاحب ترجمان بنے ۔ لیڈی ولنگڈن بھی پاس تھیں ۔ چوہدری صاحب نے صاف کہہ دیا کہ میں کچھ نہیں کہوں گا جو کہنا ہو خود کہنا۔ چنانچہ مرحومہ نے لارڈ ولنگڈن سے نہایت جوش سے کہا کہ میں ایک گاؤں کی رہنے والی عورت ہوں ، میں نہ انگریزوں کو جانوں اور نہ ہی ان کی حکومت کے اسرار کو ۔ ہم نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے سنا تھا کہ انگریزی قوم اچھی قوم ہے اور ہمیشہ تمہاری قوم کے متعلق دل سے دعائیں نکلتی تھیں ۔ جب کوئی تمہاری قوم کے لئے مصیبت کا وقت آتا تھا رو رو کر دعا ئیں کیا کرتی تھی کہ اے اللہ ! تو ان کا حافظ و ناصر ہو تو ان کے اصر ہو تو ان کو تکلیف سے بچائیولیکن اب جو کچھ جو کچھ جماعت سے خصوصاً قادیان میں سلوک ہو رہا ہے، اس کا نتیجہ یہ ہے کہ ارادہ سے نہیں بلکہ آپ ہی آپ بد دعا نکلتی ہے۔ آخر ہم لوگوں نے کیا کیا ہے کہ اس رنگ میں ہمیں تکلیف دی جاتی ہے چوہدری صاحب نے لارڈ ولنکڈن سے کہا کہ میں صرف ترجمان ہوں میں وہی بات کہہ دوں گا جو میری والدہ کہتی ہیں ۔ آگے آپ انہیں خود جواب دے دیں اور ان کی بات لارڈ ولنگڈن کو پہنچا دی ۔ اس سیدھے سادھے اور با عزت کلام کا اثر لیڈی ولنگڈن پر تو اس قدر ہوا کہ اُٹھ کر مرحومہ کے پاس آ بیٹھیں اور تسلی دینی شروع کی اور اپنے خاوند سے کہا کہ یہ معاملہ ایسا ہے جس کی طرف تم کو خاص توجہ دینی چاہئے ۔ کتنے مرد ہیں جو اس دلیری سے سلسلہ کے لئے اپنی غیرت کا اظہار کر سکتے ہیں اور کرتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ مرحومہ کی روح کو قبولیت کے ہاتھوں سے لے اور اپنے فضلوں کا وارث کرے۔ آمین عزیزم چوہدری سرظفر اللہ خان صاحب سے وہ اپنے سب بیٹوں سے زیادہ محبت کرتی تھیں اور اکثر کہا کرتی تھیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو سب سے زیادہ عزت بھی دی ہے اور سب سے زیادہ میرا ادب بھی کرتے ہیں ۔ ابھی شوری کے موقع پر چوہدری صاحب کے ساتھ آئی ہوئی تھیں ۔ دو تین دفعہ مجھے ملنے آئیں ۔ خوش بہت نظر آتی تھیں مگر کہتی تھیں مجھے اپنا اندر خالی خالی نظر آتا ہے۔ ان کا ایک خواب تھا کہ اپریل میں وہ فوت ہونگی مگر خوابوں کی بعض دفعہ مخفی تعبیر ہوتی ہے ۔ معلوم ہوتا ہے کہ اپریل میں اس بیماری نے لگنا تھا جس سے وہ فوت ہوئیں۔ اپریل کے اس قدر قریب عرصہ میں ان کا فوت ہونا اس خواب کے سچے ہونے کا ایک یقینی ثبوت ہے ۔