انوارالعلوم (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 138 of 675

انوارالعلوم (جلد 15) — Page 138

انوار العلوم جلد ۱۵ كُلُّ مَنْ عَلَيْهَا فَان اعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَنِ الرَّحِيمِ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ ۔ هُوَ النَّاصِرُ كُلُّ مَنْ عَلَيْهَا فَان ( تحریر فرموده ۱۷ رمئی ۱۹۳۸ ء ) یوں تو مئی کا مہینہ ہمارے لئے ہمیشہ ہی ایک بڑے رنج و غم کی یاد کو تازہ کر دیتا ہے لیکن اس سال کے مئی میں یہ خصوصیت ہے کہ اس میں غم پر مشتمل تازہ واقعات کا بھی ایک اجتماع ہو گیا ہے۔ پہلے حافظ بشیر احمد ہمارے نوجوان اور ہونہار مبلغ کی خدام الاحمدیہ کے سلسلہ میں کام کرتے ہوئے اچانک موت ہوئی، پھر خان صاحب فقیر محمد خان صاحب سپرنٹنڈنٹ انجنیئر کی ناگہاں موت ا واقع ہوئی ، اس کے بعد ” الفضل میں پڑھا میں پڑھا کہ چوہدری عبدالقادر صاحب پلیڈ رفوت ہو گئے اور اب چوہدری نصر اللہ خان صاحب مرحوم کی اہلیہ محترمہ یعنی عزیزم چوہدری سر محمد ظفر اللہ خان صاحب کی والدہ کی وفات کی اطلاع ملی ہے ۔ اِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا لَيُورْجِعُوْنَ کے دنیا میں جو آیا اس نے مرنا ہے اور اس راستہ پر ہر ایک کو گزرنا ضروری ہے لیکن ایک ایسی قوم جو دنیا میں اس طرح بسر کر رہی ہے جس طرح بتیس دانتوں میں زبان ، اس کے لئے اس کا ہر فرد قیمتی ہے اور اس کا نقصان رنج دہ۔ لیکن جب ایک قلیل عرصہ میں کئی کام کرنے والے نو جوان اور دعائیں کرنے والے عمر رسیدہ فوت ہو جائیں تو دل کا رنج وغم اور بھی بڑھ جاتا ہے۔ جن مرحومین کا میں نے ذکر کیا ہے ان میں سے ہر ایک حافظ بشیر احمد صاحب مرحوم خاص رنگ رکھتا تھا۔ حافظ بشیر احم صاحب حافظ قرآن، جامعہ کے فارغ التحصیل ، وقف کننده خدام الاحمدیہ کے مخلص کارکن اور اُن نوجوانوں میں سے تھے جن کے مستقبل کی طرف سے نہایت اچھی خوشبو آ رہی تھی مگر اللہ تعالیٰ کی مشیت کچھ اور تھی اس نے انہیں خدام احمد یہ کے لئے ایک مثال اور نمونہ بنانا تھا۔ جس جماعت کے بنتے ہی اس کے کارکنوں کو شہادت کا موقع مل جائے اس کے مستقبل کے شاندار ہونے میں کوئی شک نہیں رہتا اور