انوارالعلوم (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page xv of 675

انوارالعلوم (جلد 15) — Page xv

انوار العلوم جلد ۱۵ تعارف کتب کے بعد حضور نے اپنی اولاد اور خاندان مسیح موعود کے افراد کو بعض زریں نصائح فرمائیں اور ان پر واضح کیا کہ محض حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خاندان سے تعلق کوئی بڑائی یا بزرگی کی بات نہیں بلکہ اصل بزرگی تقوی میں ہے۔ آپ فرماتے ہیں کہ :۔ دو تمہارا فرض پس عزت کا جو چوغہ تم پہنو وہ دوسروں سے مانگا ہوا نہ ہو۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے کے خاندان میں سے ہونا یا میرا بیٹا ہونا یہ تو مانگا ہوا چوغہ ہے ۔ تمہارا ہے کہ تم خود اپنے لئے لباس مہیا کرو۔ وہ لباس جسے قرآن مجید نے پیش کیا ہے یعنی لِبَاسُ التَّقْوى ذَالِكَ خَيْرٌ تقویٰ کا لباس سب لباسوں سے بہتر ہے ۔ غرض تم احمدیت کے خادم بنو پھر اللہ تعالیٰ کی نظروں میں بھی تم معزز ہو گے اور دنیا بھی تمہیں عزت کی نگاہ سے دیکھے گی تم اپنے اندر ذاتی جو ہر پیدا کرو، جماعت احمد یہ کے ہر فرد کا خیال رکھو ، خاندان حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا فرد ہونے کی وجہ سے تمہیں کوئی امتیاز نہیں ، امتیاز خدمت کرنے میں ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے خدمت کی اللہ تعالیٰ نے آپ پر فضل نازل فرمایا۔ تم بھی اگر خدمت کرو گے تو اللہ تعالیٰ تم پر بھی اپنا فضل نازل کرے گا۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:۔ منه از بهر ما گرسی که ماموریم خدمت را یعنی میرے لئے گر سی مت رکھو کہ میں دنیا میں خدمت کے لئے پیدا کیا گیا ہوں ۔اسی طرح تم بھی کرسیوں پر بیٹھنے کے متمنی نہ بنو بلکہ ہر مسکین اور غریب سے ملو اور اگر تمہیں کسی غریب آدمی کے پاؤں سے زمین پر بیٹھ کر کانٹا بھی نکالنا پڑے تو تم اسے اپنے لئے فخر سمجھو۔ خود تقوی حاصل کرو اور جماعت کے دوستوں سے مل کر اُن کو فائدہ پہنچاؤ اور جو علم تم نے سیکھا ہے وہ اُن کو بھی سیکھاؤ“۔ عالم (۸) آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور امن عالم الله خلیفة المسیح الثانی نے ۱۱ دسمبر ۱۹۳۸ ء کو قادیان میں جلسہ سیرۃ النبی ﷺ کے سید نا حضرت خلیفة اتحا 11 مبارک موقع پر آنحضرت ﷺ اور امن عالم کے موضوع پر یہ لطیف تقریر ارشاد فرمائی جس