انوارالعلوم (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 104 of 675

انوارالعلوم (جلد 15) — Page 104

انوار العلوم جلد ۱۵ انقلاب حقیقی کرتے جائیں تو ہماری مثال اسی شخص کی سی ہوگی جس کی نسبت کہتے ہیں کہ کسی سے شیر کی تصویر بدن پر گدوانے گیا تھا۔ جب وہ شیر گود نے لگا اور اس نے سوئی جسم میں داخل کی اور اسے درد ہوئی تو پوچھنے لگا کہ کیا گودنے لگے ہو؟ گودنے والے نے جواب دیا شیر کا دایاں کان ۔ اس پر اس نے پوچھا کہ اگر شیر کا دایاں کان نہ ہو تو کیا شیر شیر رہتا۔ رہتا ہے یا نہیں ؟ گودنے والے نے کہا کہ رہتا تو ہے۔ تو اس نے کہا کہ اچھا پھر اسے چھوڑ و آگے چلو۔ پھر اس نے دوسرا کان گودنا چاہا تو اس پر بھی اسی طرح گفتگو کی اور اسی طرح ہر عضو پر کرتا گیا ۔ آخر گودنے والا کام چھوڑ کر بیٹھ گیا اور اس شخص نے حیرانی سے پوچھا کہ اپنا کام کیوں چھوڑ بیٹھے ہو؟ تو گودنے والے نے کہا اس لئے کہ اب شیر کا کچھ بھی باقی نہیں رہا۔ اسی طرح اگر ہم بھی دیکھیں کہ لوگ اسلامی احکام کی خلاف ورزی کر رہے ہیں اور انہیں چھوڑتے جائیں تو اسلام کا اور جماعت کا کچھ بھی باقی نہیں رہتا ۔ پس ہمارا فرض ہے کہ جو لوگ نصیحت سے اپنی اصلاح کرتے ہیں ان کی نصیحت سے اصلاح کریں اور جو لوگ نصیحت سے اصلاح نہیں کرتے انہیں مجبور کریں کہ یا وہ اپنے وجود سے احمدیت کو بدنام نہ کریں یا پھر تو بہ کر کے باقی جماعت کے ساتھ شامل ہو جائیں اور اس کام میں جماعت کو کامل تعاون کرنا چاہئے اور چاہئے کہ جماعت اس بارہ میں پوری اطاعت کرنے کے لئے تیار ہو جائے ۔ خواہ انہیں اپنا باپ چھوڑنا پڑے یا بیوی چھوڑنی پڑے یا بیٹا چھوڑنا پڑے یا بھائی چھوڑنا پڑے۔ ے اس مقصد کے حصول کے لئے یہ ضروری ہے کہ ایسی کتب لکھی جائیں کتب جن میں اسلام کی اصولی تعلیم یا اصولی تعلیم کی روشنی میں احکام ہوں ۔ ۴ ۔ جائز جبر چوتھے اس امر کی ضرورت ہے کہ شریعت کے اجراء میں جائز جبر جے - سیاست کہتے ہیں، اس سے کام لیا جا ۔ اسے کام لیا جائے اور اس امر کا امر کا کوئی خیال نہ کیا ۔ کاک نہ کیا جائے کہ کسی کو ٹھوکر لگتی ہے یا کوئی ابتلاء میں آتا ہے۔ سیاست کے معنی در حقیقت یہی ہیں کہ اجرائے شریعت کے باب میں جہاں ضرورت ہو اور جس حد تک اجازت ہو جبر سے کام لیا جائے اور علمائے اسلام نے اس پر کئی کتابیں لکھی ہیں اور انہوں نے ثابت کیا ہے کہ جبر سے ماننے والوں کو جبر سے اسلامی احکام پر چلانے کا نام ہی سیاست ہے اور ہمارے لئے بھی ضروری ہے کہ ہم اس جبر سے کام لیں۔ جب ایک شخص ہمارے پاس آتا ہماری بیعت کرتا اور اپنے آپ کو ہمارے سپرد کر دیتا ہے تو لازماً ہمارا حق ہے کہ اگر وہ کسی حکم پر چلنے میں سُستی اور غفلت سے کام