انوارالعلوم (جلد 15) — Page 98
انوار العلوم جلد ۱۵ انقلاب حقیقی کسی ایک چیز کا نام نہیں بلکہ سینکڑوں اعمال ہیں جن کے مجموعہ کا نام ایمان ہے اور جب تک ان اعمال کی چاروں دیواریں مکمل نہ کی جائیں ایمان کی عمارت پایہ تکمیل کو نہیں پہنچ سکتی ۔ ان اعمال میں سے ادنیٰ سے ادنی اور معمولی سے معمولی عمل یہ ہے کہ اِمَاطَةُ الْأَذَى عَنِ الطَّرِيقِ یعنی راستہ کو صاف کیا جائے اور گندی اور تکلیف دہ اشیاء کو ہٹا دیا جائے ۔ غرض رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا ہے کہ اسلام کسی ایک چیز کا نام نہیں بلکہ توحید پر ایمان لانا، قضاء وقد ر پر ایمان لانا ، انبیاء پر ایمان لانا ، بعث بعد الموت پر ایمان لانا ، جنت پر ایمان لانا ، دوزخ پر ایمان لانا ، قبولیت دعا پر ایمان لانا ، تمام صفات الہیہ پر ایمان لانا ۔ پھر نمازیں پڑھنا، روزے رکھنا ، حج کرنا ، زکوۃ دینا، صدقہ و خیرات دینا ، تعلیم حاصل کرنا اور تعلیم دینا ، والدین کی خدمت کرنا ، بنی نوع انسان کی بہبودی کے لئے جسمانی خدمات بجالانا، غیرت دکھانا ، شکر کرنا ، حُسنِ ظنی سے کام لینا، بہادر بننا ، بلند ہمت ہونا ، صبر کرنا ، رحم دل ہونا، وقار کا خیال رکھنا ، جفا کش ہونا ، سادہ زندگی بسر کرنا ، میانہ روی اختیار کرنا ، عدل کرنا ، احسان کرنا ہی بنا ، وفاداری دکھلانا ، ایثار اور قربانی کی روح پیدا کرنا ، معاف کرنا ، دوسروں کا ادب کرنا ، لوگوں کے ساتھ خوش اخلاقی سے پیش آنا ، حکام کی اطاعت کرنا ، تربیت کرنا ، دشمنانِ قوم سے اجتناب کرنا ، محبت الہی پیدا کرنا ، تو کل کرنا ، تبلیغ کرنا ، رنا، جھوٹ نہ بولنا ، چغلخوری نہ کرنا ، گالیاں نہ دینا ، دھوکا بازی نہ کرنا، خیانت : ۔ نه کرنا ظلم نہ کرنا ، فساد نہ کرنا، چوری نہ کرنا، بہتان نہ لگانا، تحقیر نہ کرنا ، استہزاء نہ کرنا ، بیکار نہ رہنا ، سستی نہ کرنا ، محنت اور عقل سے کام کرنا، یہ اور اسی قسم کی ہزاروں باتیں ایمان کا حصہ ہیں یہاں تک کہ چھوٹے سے چھوٹا درجہ ایمان کا یہ ہے کہ راہ چلتے ہوئے اگر کوئی پتھر دکھائی دے تو اسے راستہ سے اُٹھا کر الگ پھینک دو کوئی کنکر ہو تو اسے ہٹا دو۔ پس یہ مت خیال کرو کہ لا الــه إِلَّا الله کہہ کر یا مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللهِ کہ کریا امَنَّا بِالْمَسِيحِ الْمَوْعُودِ کہہ کر یا نماز پڑھ کر یا روزہ رکھ کر تم مومن ہو جاتے ہو اور تم کو ایمان مل جاتا ہے۔ ایمان نام ہے اسلام کے اعتقادات ، مسائل ، عبادات، تمدن، اقتصاد، قضا، سیاست، اخلاق اور معاشرت کو اپنے نفس اور دنیا میں جاری کرنے کا جس کا اعلیٰ حصہ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ ہے اور ادنی حصہ راستہ پر سے کانٹے ہٹانے کا ہے ۔ جس نے اس کے لئے کوشش نہ کی نہ وہ مؤمن ہوا اور نہ اس نے اسلام کے دین کو قائم کرنے کے لئے کوشش کی ۔ دیکھو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں۔ اَلْإِمَامُ جُنَّةٌ يُقَاتَلُ مِن وَرَائِهِ ۹۳ که