انوارالعلوم (جلد 15) — Page 93
انوار العلوم جلد ۱۵ انقلاب حقیقی تقسیم کروں گا اس پر جھٹ بیٹا کھڑا ہو جاتا ہے اور کہتا ہے میں یہ تقسیم نہیں ہونے دوں گا یا بیوی اس کی مخالف ہو جاتی ہے اور کہتی ہے کہ میں یہ تقسیم نہیں ہونے دوں گی، جس طرح عام رواج ہے اسی طرح تقسیم کرو تو با وجود رو تو با وجود خواہش کے وہ اس حکم پر عمل نہیں کر نہیں کر سکے گا کیونکہ قانون اس کے مخالفوں کے حق میں ہے۔ اسی طرح کئی سیاسی احکام ہیں جو ایک کامل نظام کے مقتضی ہیں اور اگر نظام نہ ہو تو ان پر عمل نہیں ہو سکتا ۔ مثلاً شریعت نے کہا ہے کہ بھاؤ مقرر کئے جائیں اور اس اس رنگ میں مقرر کئے جائیں ۔ اب اگر کوئی نظام نہ ہو تو اکیلا انسان کہاں بھاؤ مقرر کرا سکتا ہے ۔ پس جب تک نظام نہ ہو جو دونوں فریق کو مجبور کرے صرف ایک فریق با وجود علم اور ارادہ کے اس پر عمل نہیں کر سکتا۔ (۵) پھر نئی جماعت کے لئے یہ بھی مشکل ہوتی ہے کہ ابتدائی صحابہ ہی اصل تعلیم کو جاری کر سکتے ہیں ۔ اگر ان کے زمانہ میں عمل نہ ہو تو پھر کوئی صورت باقی نہیں رہتی اور لوگ کہہ دیتے ہیں کہ جب صحابہ نے : ابہؓ نے جو اتنے بڑے بڑا ، بزرگ تھے یہ نظام جاری نہیں کیا تو ہم کیوں کریں؟ (۶) چھٹی بات یہ ہے کہ جب تک اپنا نظام قائم نہ کیا جائے پرانا نظام مٹ ہی نہیں سکتا ۔ آخر جب تک ہم اپنے نظام کا کوئی اعلیٰ نمونہ نہ دکھائیں پرانی چیز کو لوگ کیوں چھوڑیں ؟ وہ جب تک ہم اپنے نظام کا بہتر نمونہ ان کے سامنے پیش نہ کریں، اس بات پر مجبور ہوتے ہیں کہ پرانے نظام کو ہی اختیار کئے رہیں پھر اس کے علاوہ ایک خطر ناک بات یہ ہے کہ خود اپنے آدمی اس کا شکار ہوتے چلے جاتے ہیں اس لئے بغیر نظام کے وہ مقصود پورا ہی نہیں ہو سکتا اور وہ انقلاب جو مطلوب ہے کبھی رونما ہی نہیں ہو سکتا۔ انقلاب حقیقی کے قیام میں ہمارا کام پس جبکہ انقلاب پیدا کرنے کیلئے یعنی میں ہمارا کام اپنانے لئے نظام کو مٹانے اور نئے نظام نظام کو قائم کرنے کیلئے اور اس حد تک قائم کرنے کیلئے کہ نیا آسمان اور نئی زمین پیدا ہو جائے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام تشریف لائے ہیں تو سوال یہ ہے کہ ہم نے اس بارہ میں کیا کام کیا ہے؟ تم جانے دو معترضین کے سوالات کو ، آؤ ہم سب احمدی مل کر یہ بات سوچیں کہ کیا واقع میں اگر بیرونی دنیا سے کوئی شخص ہندوستان میں آ جائے اور اسے احمدی اور غیر احمدی کا کوئی فرق معلوم نہ ہوا اور فرض کرو کہ وہ بہرہ بھی ہے اور لوگوں سے سن کر بھی معلوم نہ کر سکتا ہو کہ فلاں احمدی ہیں اور فلاں غیر احمدی اور فرض کرو کہ وہ گونگا بھی ہو اور خود بھی دریافت نہ کر سکتا ہو لیکن اس کی