انوارالعلوم (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 77 of 675

انوارالعلوم (جلد 15) — Page 77

انوار العلوم جلد ۱۵ انقلاب حقیقی دی فضیلت جو قرآن که جو قرآن کریم کو حاصل ہے مسائل معاد پر کامل روشنی پھر ایک بہت بریانی یہ ہے کہ اس میں علم معاد پر علمی اور فلسفیانہ بحث کی گئی پر ہے جس سے یہودی لٹریچر بالکل خالی تھا ۔ حتی کہ ان میں قیامت کے منکرین کا زور تھا اور بہت تھوڑے تھے جو قیامت کے قائل تھے ۔ مگر قرآن کریم وہ پہلی کتاب ہے جس نے مسائلِ معاد کی کے تھے۔ ساری تفصیلات پر بحث کی ہے اور اتنی تفصیل سے اس پر روشنی ڈالی ہے کہ اب اگر کوئی جان بوجھ کر شرارت سے قیامت کا انکار کرے تو کرے ورنہ دلائل کے لحاظ سے وہ قیامت کا ہرگز انکار نہیں کر سکتا۔ اس شرعی اصطلاحات کا قیام میں شرعی اصطلاحات کا نیا دروازہ کھولا گیا جو اس سے پہلے بالکل مفقود تھا ۔ یعنی قرآن کریم سے پہلے جن باتوں کو مضامین میں ادا کیا جاتا تھا قرآن کریم نے ان کیلئے اصطلاحیں قائم کر دیں اور ایسی اصطلاحیں قائم کیں جو پہلے نہیں تھیں اور پھر ان اصطلاحوں کے ایسے معین معنی کئے جن میں شبہ کی کوئی گنجائش نہیں ہو سکتی ۔ مثلاً قرآن کریم نے نبی کا لفظ استعمال کیا ہے تو اس کی تعریف بھی بیان کی ہے اور پھر بتایا ہے کہ نبی کب آتے ہیں ان ہوتا کے پہچاننے کیلئے کیا نشانات ہوتے ہیں، ان کا کام کیا ہوتا ہے خدا تعالیٰ کا ان سے کیا معاما ہے بندوں سے ان کا کیا تعلق ہوتا ہے وغیرہ وغیرہ۔ یہ اور اسی قسم کی اور بیسیوں باتیں ایسی ہیں جو قرآن کریم کے علاوہ اور کسی مذہبی کتاب نے بیان نہیں کیں اور یہ ایک ایسی زبر دست خوبی ہے جس کا دشمن بھی اقرار کئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ پیغامیوں سے جب ہمارا مقابلہ زوروں پر تھا ، اُن دنوں میں نے ایک دفعہ بڑے بڑے بشپوں ، سکھ گیا نیوں ، ہندؤوں کے پنڈتوں اور یہودیوں کے فقیہوں سے خط لکھ کر دریافت کیا کہ آپ کے مذہب میں نبی کی کیا تعریف ہے؟ تو بعض نے تو اس کا جواب ہی نہ دیا، بعض نے یہ جواب دیا کہ اس بارہ میں ہمارے مذہب میں کوئی خاص تعلیم نہیں ۔ چنانچہ ایک بڑے بشپ کا بھی یہ جواب آیا کہ اس مضمون پر ہماری کتب میں کوئی خاص روشنی نہیں ملتی ۔ اسی طرح ملائکہ کیا ہوتے ہیں، وہ کیا کام کرتے ہیں، ان کے ذمہ کیا کیا فرائض ہیں؟ ان میں سے کوئی بات تفصیل کے ساتھ سابقہ الہامی کتب نے بیان نہیں کی ۔ مگر اسلام نے اگر ایک ، طرف بعض روحانی وجودوں کیلئے ملائکہ کا لفظ وضع کیا ہے تو پھر خود ہی ان کے وجود اور ان کے کام