انوارالعلوم (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 48 of 642

انوارالعلوم (جلد 14) — Page 48

انوار العلوم جلد ۱۴ کیا احرار واقع میں مباہلہ کرنا چاہتے ہیں؟ اعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَنِ الرَّحِيمِ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ ۔ هُوَ النَّاصِرُ کیا احرار واقع میں مباہلہ کرنا چاہتے ہیں؟ نزد یک رسول کریم صلى الله عروسہ سے ( تحریر فرموده ۲۱ نومبر ۱۹۳۵ء) برادران! السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ - کچھ عرصہ سے لیڈر ان احرار لوگوں پر یہ ظاہر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ گویا وہ تو مباہلہ کرنے کے خواہش مند ہیں لیکن امام جماعت احمد یہ اس سے گریز کر رہا ہے۔ میں افسوس سے کہنا چاہتا ہوں کہ احرار کا یہ اعلان قطعاً درست نہیں اور تقویٰ اور طہارت کے بالکل خلاف ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ احرار سلسلہ احمدیہ اور اس کے بانی پر یہ اعتراض کرتے تھے کہ ان کے نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ ذَالِكَ) بانی سلسلہ احمدیہ کا درجہ بالا ہے یہ کہ وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت نہیں کرتے بلکہ آپ کی ہتک کرتے ہیں ۔ اور اسی طرح یہ کہ بانی سلسلہ احمدیہ اور جماعت احمد یہ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ سے قادیان کو نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ ذَالِکَ ) افضل سمجھتے ہیں اور اگر مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی اینٹ سے اینٹ بھی بج جائے تو بھی وہ خوش ہوں گے ۔ میں نے اس الزام کی تردید کی اور ان امور پر جماعت احرار کو مباہلہ کا چیلنج دیا اور اپنی طرف سے یہ شرطیں پیش کیں کہ: اور (1) پانچ سو یا ہزار آدمی دونوں طرف سے مباہلہ میں شامل ہوں اور یہ لوگ امام جماعت احمد یہ اور ناظران سلسلہ احمدیہ اور پانچ لیڈران احرار کے جن کے نام دیئے گئے تھے اور جن کی شمولیت ضروری قرار دی گئی تھی ، علاوہ ہوں ۔ (۲) مباہلہ لاہور یا گورداسپور میں ہو۔ (۳) دونوں طرف کے نمائندے مل کر تفصیلات طے کر لیں اور اگر میری مقرر کردہ شرائط میں