انوارالعلوم (جلد 14) — Page 41
انوار العلوم جلد ۱۴ احرار خدا تعالیٰ کے خوف سے کام لیتے ہوئے مباہلہ کی ۔ جا سکے اور ہو سکے تو کچھ فساد بھی کھڑا کر دیا جائے ۔ ورنہ مباہلہ میں نہ لمبی چوڑی تقریریں ہونی ہیں کہ ان کے سننے کے لئے لوگوں کو بلایا جا رہا ہے اور نہ وہاں کوئی تماشا ہونا ہے کہ جس کے دیکھنے کے لئے علاقہ کے لوگوں کو جمع کیا جا رہا ہے۔ مباہلہ ہو کر چھپ جائے گا اور لوگوں کو خود حالات معلوم ہو جائیں گے ۔ (۴) مگر ان سب دلائل سے بڑھ کر چوتھی دلیل وہ اشتہار ہے ۔ جو ( مولانا ) عنایت اللہ 66 امیر مجلس احرار قادیان ( ضلع گورداسپور ) کی طرف سے قادیان کے نواحی علاقہ میں شائع ہو رہا ہے ۔ اس اشتہار میں چندہ کی اپیل کی گئی ہے اور لکھا ہے کہ:۔ دو پچھلے سال قادیان میں جو کا نفرنس ہوئی تھی، اس میں نصف لاکھ کے قریب مسلمان جمع ہوئے تھے حالانکہ کا نفرنس کا پہلا سال تھا اس سال انشَاءَ اللهُ لاکھوں کی تعداد میں مسلمان قادیان میں جمع ہونے والے ہیں ۔“ صاف احرار کی قادیان میں فساد پیدا کرنے کی نیت اس اشتہار سے ظاہر ہے کہ قادیان میں مباہلہ کیلئے نہیں بلکہ کانفرنس کیلئے احرار آ رہے ہیں اور یہ حد درجہ کی گری ہوئی بات ہے کہ وہ مباہلہ اور ہماری دعوت کو اس رنگ میں استعمال کرنا چاہتے ہیں ۔ غرض مذکورہ بالا باتوں سے ثابت ہے کہ احرار کی اصل غرض مباہلہ نہیں بلکہ کانفرنس کا انعقاد ہے اور قادیان میں مباہلہ ہونے پر اصرار بھی اسی وجہ سے ہے مگر قادیان ہمارا مقدس مقام ہے ۔ ہم مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے بعد اس کو سب دنیا سے زیادہ عزیز جانتے ہیں ۔ ہم یہ نہیں کر سکتے کہ اپنے ہاتھوں سے فساد کی جگہ بنائیں ۔ اسلام نے اس اصل کو تسلیم کیا ہے کہ مقدس مقامات دوسرے لوگوں کی شرارتوں سے پاک رہنے چاہئیں پس کوئی وجہ نہیں کہ ہم احرار کو کانفرنس کے انعقاد میں مدد دیں اس لئے میں صاف لفظوں میں کہہ دینا چاہتا ہوں کہ ہم قادیان میں مباہلہ کے لئے تیار ہیں مگر کا نفرنس کے لئے نہیں۔ اگر احرار کو فی الواقع مباہلہ منظور ہے تو : ا۔ شرائط طے کر لیں ۔ ۲۔ پھر ایک تاریخ به تراضی طرفین مقرر ہو جائے جس کی اطلاع حکومت کو بغرض انتظام دے دی جائے گی ۔ ۔ اگر وہ قادیان میں مباہلہ کرنا چاہتے ہیں تو لوگوں کو جو عام دعوت انہوں نے دی ہے اس