انوارالعلوم (جلد 14) — Page viii
انوار العلوم جلد ۱۴ ۲ تعارف کتب انعقاد کیا گیا۔ حضور نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات کا ذکر نہایت پُر در داور دلی جذبات کے ساتھ فرماتے ہوئے جماعت کو ان ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلائی فرمایا:۔ رو حضرت مسیح علیہ السلام کی طرح حضرت مسیح ثانی علیہ الصلوۃ والسلام نے بھی یہی پیغام دیا تھا کہ تمہارے لئے ترقیات کے جو وعدے ہیں وہ زیادہ تر میرے بعد پورے ہوں گے اور اُن وجودوں کے ذریعہ پورے ہوں گے جنہیں اللہ تعالیٰ قدرت ثانیہ کا مظہر قرار دے گا ۔ پس ہر احمدی پر جو منافق نہیں یہ دن نہیں گزرسکتا جب تک اُسے اُس کی ذمہ داری یاد نہ دلا دے اور یہ آواز اس کے کانوں میں نہ گونجے کہ اسلام کی ترقی چاہتی ہے کہ میں تم سے جدا ہو جاؤں اور خدمتِ اسلام کا کام تمہارے کندھوں پر پڑے۔ حضور نے اللہ تعالیٰ کے احسانات کا تذکرہ فرمایا کہ کس شان سے ہر ابتلاء سے جماعت کو سرخرو کر کے نکالا ۔ جب حضرت خلیفہ مسیح الاوّل کی وفات ہوئی تو المسیح الاول تو پیغامیوں نے قادیان یہ سے جاتے ہوئے یہ کہا تھا کہ آئندہ دس سالوں کے عرصہ میں اس جگہ پر عیسائیوں کا قبضہ ہو گا حضور نے فرمایا اللہ کے فضل سے آج اس اعلان کے ۲۱ سال بعد جماعت پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط اور مستحکم ہو چکی ہے جس کا غیر بھی اقرار کرتے ہیں۔ حضور نے جماعت کو صبر اور دعاؤں پر زور دینے کی تلقین فرمائی اور یہ کہ ہر قسم کی قربانی کیلئے وہ تیار رہیں ۔ دوسری طرف جہاں گورنمنٹ کو اطاعت اور فرمانبرداری کی یقین دہانی کروائی وہاں یہ بھی بتایا کہ جماعت بزدل اور بے غیرت نہیں ہے۔ فرمایا:۔ ہر احمدی جس نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام یا آپ کے خلفاء کے ہاتھ پر بیعت کی ہے وہ خدا کا سپاہی ہے اور خدا کا سپاہی ناواجب طور پر کسی کے سامنے نہیں جھک سکتا خواہ اُسے ٹکڑے ٹکڑے کر دیا جائے“۔ پھر فرمایا :۔ ہم مذہب میں کسی قسم کی دخل اندازی گوارا نہیں کر سکتے ہم ایک ایک کر کے مرجائیں گے مگر یہ نہیں ہونے دیں گے ہم سے یہ امید نہ رکھی جائے کہ ہم سلسلہ کی بے عزتی حکام کے ہاتھوں ہوتی دیکھیں اور پھر بھی جی ہاں جی ہاں کہتے ہوئے