انوارالعلوم (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 26 of 642

انوارالعلوم (جلد 14) — Page 26

انوار العلوم جلد ۱۴ مجلس احرار کا مباہلہ کے متعلق نا پسندیدہ رویہ على الله عروسه معزز سمجھتی ہے اور مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی ذلت اور تباہی کی خواہاں ہے اور جماعت احمد یہ جوابی طور پر اس امر پر قسم کھائے گی کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا دعوی ہمیشہ رسول کریم ہے کی شاگردی اور غلامی کا رہا ہے اور یہی انہوں نے تعلیم دی ہے ۔ آپ رسول کریم ﷺ کے سچے رسول کریم علي عاشق اور خادم تھے اور آپ کی تعلیم کے مطابق جماعت احمد یہ بی یہ بھی بحیثیت جماعت ، رسول کو افضل الرسل اور سید ولد آدم سمجھتی ہے اور بانی سلسلہ احمدیہ کو آپ کا شاگرد اور خلیفہ بجھتی ہے نہ کہ مرتبہ کے لحاظ سے آپ کے برابر یا آپ سے بڑا ۔ اور دوسرے یہ کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کو دنیا کے سب مقامات سے زیادہ معزز سمجھتے تھے اور جماعت احمد یہ بھی ان مقامات کو دنیا کے سب مقامات سے اور قادیان سے زیادہ مکرم اور معزز سمجھتی ہے اور ان مقامات کی عزت و احترام پوری طرح اس کے دل میں قائم ہے اور ان کی ہتک کو وہ اپنی عزت کی ہتک سے زیادہ سمجھتی ہے اور ان کی حفاظت کے لئے ہر وہ قربانی جس کا شریعت مطالبہ کرے بفضلہ تعالیٰ کرنے کو تیار ہے ۔ برادران ! با وجود اس چیلنج کے شائع ہونے کے ، سوائے اس کے کہ بعض اشخاص احرار کی طرف سے قادیان آ کر تقریر کر گئے کہ احرار مباہلہ کرنے کے لئے تیار ہیں ، احرار نے اور کوئی قدم نہ اٹھایا۔ تب میں نے اس خیال سے کہ شاید احرار کو یہ بُرا معلوم ہوا ہو کہ اخبار میں اعلان کر دیا گیا ہے اور ہ ہے اور ہمیں تحریراً مخاطب نہیں کیا گیا اپنے دوسرے خطبہ میں ا میں اپنی طرف سے شیخ بشیر احمد صاحب ایڈووکیٹ، چوہدری اسد اللہ خان صاحب بیرسٹر ایم ۔ ایل سی اور مولوی غلام احمد صاحب مولوی فاضل مبلغ جماعت احمد یہ کو نمائندہ مقرر کر دیا کہ ان سے احرار کے نمائندے ضروری امور کا تصفیہ کر لیں اور شرائط کا تصفیہ ہو جانے کے پندرہ دن بعد مباہلہ ہو، تا مباہلہ کرنے والوں کو بروقت اطلاع دی جاسکے ۔ ان لوگوں نے بذریعہ خطوط تمام ذمہ وار کا رکنان احرار کو توجہ دلائی لیکن ان کا جواب اب تک نہیں ملا۔ اس کے بعد مظہر علی صاحب اظہر کی طرف سے ۱۴ ۔ اکتوبر کو مجھے یکدم تا ر ملی کہ مجلس احرار مباہلہ منظور کرتی ہے اور یہ کہ ۲۳۔ نومبر کو مباہلہ ہوگا ۔ مجھے اس تار کو دیکھ کر نہایت حیرت ہوئی کہ خطوط کا جواب تک نہیں دیا جاتا ، شرائط کے متعلق کچھ لکھا نہیں جاتا اور ۲۳۔ نومبر یعنی ایک ماہ سے زائد عرصہ کے بعد جس کام کی تاریخ مقرر کی جاتی ہے اس کی اطلاع بذریعہ تار دی جاتی ہے حالانکہ ایک رجسٹری خط کے ذریعہ سے یہ اطلاع آ سکتی تھی ۔ ان کی اس تار اور اس امر کو دیکھ کر کہ جو نمائندے مقرر کئے گئے تھے ان کے خطوط کا جواب