انوارالعلوم (جلد 14) — Page 557
انوار العلوم جلد ۱۴ مصری صاحب کے خلافت سے انحراف کے متعلق تقریر إِذَا تَعْصِي رَبَّكَ وَتَنْكُتُ عَهْدَكَ وَلَا تُضُرُّ إِلَّا نَفْسَكَ - 1 تب تو اپنے رب کی نافرمانی کرنے والا اور اپنے عہد کو توڑنے والا ہوگا اور تو اپنی جان کے سوا اور کسی کو ضر ر نہیں پہنچا سکے گا ۔ پھر آپ نے پوچھا آخر اس علیحدگی کی وجہ کیا ہے؟ تو اس نے تحکیم کو بطور وجہ بیان کیا ۔ حضرت علیؓ نے اسے کہا کہ آ! مجھ سے سن میں رسول کریم ﷺ کا شاگرد ہوں اور میں تجھ پر قرآن اور حدیث سے ثابت کر سکتا ہوں کہ تیرا یہ فعل نا درست ہے مگر اس نے کہا میں سننے کیلئے تیار نہیں ۔ اور اپنی قوم کو لے کر راتوں رات نکل گیا ۔ اُس وقت کسی نے حضرت علی سے پوچھا کہ آپ خریت کے مقابلہ میں خاموش کیوں ہو گئے تھے؟ آ گئے تھے؟ آپ نے فرمایا میں بز دل نہیں ہوں اور میں کبھی لڑائی سے نہیں گھبرایا مگر جب یہ لوگ مجھے دھمکی دے رہے تھے کہ ہم تجھے قتل کر دیں گے اُس وقت میرا نفس مجھے شرمندہ کر رہا تھا اور کہہ رہا تھا کہ ایسا نہ ہو کہ ان کے مقابلہ کی ضد میں آ کر تو ان سے لڑنا شروع کر دے اور رسول کریم ﷺ کے نواسوں کو شہید کرادے۔ جب یہ ۔ یه خریت بن راشد اشد وہاں سے نکلا تو اسے راستے میں ایک ایرانی نومسلم ملا اور اس نے اس سے پوچھا کہ علی کے بارہ میں تمہاری کیا رائے ہے ۔ اس نے کہا وہ امیر الموم وہ امیر المؤمنین ہیں اور بڑے نیک آدمی ہیں ۔ اس پر خریت نے اس ایرانی نو مسلم کو یہ کہتے ہوئے قتل کر دیا کہ تو کافر ہے ۔ پھر ایک کافر ملا تو اس نے اس سے پوچھا تو کون ہے؟ اس نے کہا میں ایک کا فر رعایا ہوں وہ کہنے لگا اچھا پھر تجھے مارنے کا ہمیں کوئی حق نہیں ۔ آخر یہ لوگ رامهرمز چلے گئے جو اہواز کا شہر ہے اور وہاں ان کے ساتھ باقی خوارج بھی آ ملے ۔ علاوہ ازیں ایران کے کفار اور نصاری اور مرتدین اور زکوۃ دینے سے انکار کرنے والوں کی ایک جماعت بھی ان سے آملی اور ایک بڑا لشکر ہو گیا۔ حضرت علیؓ نے ان کے مقابلہ کیلئے معقل بن قیس الریاحی کو بھیجا ۔ انہوں نے جنگ کی اور جنگ میں خریت مارا گیا ۔ کفار قید کئے گئے اور زکوۃ جمع کی گئی ۔ اس کے بعد یہ لوگ مکہ میں مخفی جمع ہوئے اور فیصلہ کیا کہ حضرت علیؓ کا کھلا مقابلہ ہم نہیں کر سکتے اس لئے مخفی حملہ کرنا چاہئے ۔ چنانچہ فیصلہ کیا کہ تین آدمی جائیں اور اکیس رمضان کو ایک ہی دن حضرت علی، حضرت معاویہ اور حضرت عمر و بن عاص کو قتل کر دیا عاویہ اور حضرت عمرو بن عاص کو قتل کر دیا جائے ۔ چنانچہ عبد الرحمن بن ملجم کو حضرت علیؓ کے قتل کرنے کیلئے اور حجاج بن عبداللہ