انوارالعلوم (جلد 14) — Page 546
انوار العلوم جلد ۱۴ مصری صاحب کے خلافت سے انحراف کے متعلق تقریر ہے ۔ غرض حضرت علی نے انہیں بہت سمجھایا مگر وہ نہ مانے اور کہا کہ قرآن کے خلاف ہم کس طرح جاسکتے ہیں اس پر حضرت علیؓ نے کہا وہ دھوکا کر رہے ہیں چنانچہ فرمایا :۔ عَدُوِّكُمْ۔ عِبَادَ اللَّهِ امْضُوا عَلَى حَقِّكُمْ وَصِدْقِكُمْ وَقِتَالِ فَإِنِّي إِنَّمَا أَقَاتِلُهُمْ لِيَدِينُوا لِحُكْمِ الْكِتَابِ فَأَنَّهُمْ قَدْ عَصَوُا اللَّهَ فِيْمَا أَمَرَهُمْ وَنَسُوا عَهْدَهُ وَنَبَذُوا كِتَابَهُ ۵۹ کہ اے اللہ کے بندو! خدا نے جو تمہیں حق دیا ہے خدا نے جو تمہیں سچائی دی ہے اس پر قائم رہتے ہوئے ہتھیا رمت پھینکو اور دشمنوں سے لڑائی کرتے چلے جاؤ کیونکہ میں جو ان سے لڑ رہا ہوں یہ اس لئے نہیں کہ وہ قرآن نہیں مانتے بلکہ اس لئے کہ وہ قرآن کے غلط معنی کرتے ہیں انہوں نے خدا تعالیٰ کے ان احکام کی نافرمانی کی ہے جو اُس نے دیئے اور انہوں نے خلافت کی اہمیت کے عہد کو بھلا دیا اور کتاب اللہ کو اپنی پیٹھ کے پیچھے پھینک دیا ہے پس ان سے لڑو اور لڑتے چلے جاؤ۔ مگر ان لوگوں نے چونکہ رشوتیں کھائی ہوئی تھیں اور بعض ان میں سے بیوقوف تھے اس لئے انہوں نے حضرت علیؓ کی کوئی بات نہ سنی ۔ حضرت علیؓ نے بہتیرا کہا کہ آخر میں ان کو قرآن ہی کی طرف تو بلا رہا تھا اگر وہ اس پر راضی ہوتے تو کیوں پہلے مقابلہ کرتے ۔ مگر انہوں نے کہا نہیں تم صرف یہ خود غرضی سے کہتے ہو۔ تمہیں بس اپنی خلافت کا فکر ہے تمہیں اس سے کیا کہ مسلمان تباہ ہوتے ہیں یا بچتے ہیں ۔ تم تو اپنی خلافت کو لئے بیٹھے ہو اور تمہیں اس امر کی کوئی پر واہ نہیں کہ مسلمانوں کا کیا حال ہو رہا ہے ۔ حضرت علیؓ نے انہیں پھر سمجھایا مگر وہ پھر بھی نہ مانے اور آخر انہوں نے حضرت علی سے کہا کہ یا تو جنگ فوراً بند کر دو نہیں تو ہم ابھی تم کو عثمان کی طرح قتل کر دیں گے یا پکڑ کر معاویہ کے لشکر کے سپرد کر دیں گے ۔ حضرت علیؓ نے کہا اچھا جس طرح چاہو کرو مگر میرے آج کے انکار کو یاد رکھنا اور اگر میرا کہنا مانتے ہو تو لڑائی جاری رکھو اور اگر میرا کہنا نہیں ماننا اور تم میرے نا فرمان ہو چکے ہو تو پھر تم مجھ سے کیا پوچھتے ہو ۔ جو تمہارے جی میں آتا ہے کرو۔ انہوں نے کہا بس اب فیصلہ کا طریق یہی ہے کہ الاشتر کو فوراً بلو اؤ اور اسے کہو کہ لڑنا چھوڑ دے۔ حضرت علیؓ نے اشتر کی طرف آدمی بھیجا کہ اُسے بُلا لاؤ۔ وہ کہنے لگا کچھ خدا کا خوف کرو کبھی کوئی سپہ سالار کو بھی دشمن کے مقابلہ سے بُلوایا کرتا ہے اگر میں یہاں سے تھوڑی دیر کیلئے بھی چلا گیا تو ہمیں ؛ جو فتح ہوئی ہے فوراً شکست سے بدل جاوے گی ۔ پس مجھے مت بُلواؤ ۔ دشمن کی شکر شکست میں بس تھوڑی دیر ہی رہتی ہے اس کے بعد میں آ جاؤں گا ۔ جب وہ آدمی یہ پیغام لے کر حضرت علیؓ