انوارالعلوم (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 520 of 642

انوارالعلوم (جلد 14) — Page 520

انوار العلوم جلد ۱۴ مصری صاحب کے خلافت سے انحراف کے متعلق تقریر حضرت مسیح ناصری کے متعلق لکھا ہے کہ انہوں نے ایک دفعہ ایک شخص کو چوری کرتے دیکھا تو اُسے کہا دیکھ چوری مت کر ۔ وہ کہنے لگا خدا کی قسم ! میں چوری نہیں کر رہا۔ حضرت مسیح نے فرمایا میں نے اپنی آنکھوں کو جھٹلا یا مگر تیری قسم کو سچا سمجھ لیا۔ یہ خدا کے ایک نبی کا نمونہ ہے ۔ اور ایک نمونہ مصری صاحب کا ہے کہ میں نے مؤکد بعذاب قسم کھائی اور انہیں پھر بھی اعتبار نہیں آیا۔ مصری صاحب جب جماعت سے علیحدہ ہوئے تو ایک دوست نے افریقہ سے مجھے لکھا کہ مجھے سخت گھبراہٹ ہے جب اتنے بڑے بڑے آدمیوں کا ایمان ضائع ہو گیا تو ہمارا ایمان کیا حقیقت رکھتا ہے۔ میں نے انہیں لکھوایا کہ بڑائی کا فیصلہ کرنا خدا کا کام ہے آپ کا نہیں ۔ جب خدا نے اپنے عمل سے انہیں جماعت سے الگ کر دیا ہے اور آپ کو اُس نے رکھا ہے تو معلوم ہوا کہ خدا تعالیٰ کے نزدیک وہ چھوٹے تھے اور آپ بڑے ہیں ۔ پس اس شبہ کو اپنے دل سے نکال دیں کہ آپ کا ایمان کمزور ہے یہ اپنے نفس پر بدظنی ہے ۔ خدانا - خدا تعالیٰ نے فیصلہ کر دیا ہے کہ آپ بڑے ہیں پس بجائے گھبرانے اور تشویش کا اظہار کرنے کے آپ کو چاہئے کہ خدا تعالیٰ کے حضور سجدہ کریں اور کہیں کہ اے خدا! تیرا شکر ہے کہ اس امتحان میں تو نے ہم کو عزت دی اور ہمیں ایمان کے لحاظ سے بڑا ثابت کیا۔ پھر ہمارے لئے یہ امر کس قدر موجب ازدیاد ایمان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قبل از وقت ان فتنوں کی ہمیں خبر دے رکھی تھی چنانچہ ۱۹۱۵ ء میں جب مصری صاحب کے آئندہ حالات کا کسی کو وہم و گمان بھی نہیں ہو سکتا تھا اور یہ مصر سے واپس آئے تھے اُس وقت مجھے ایک رویا ہوا جس میں مجھے بتایا گیا کہ شیخ صاحب کا خیال رکھنا یہ مرتد ہو جائیں گے۔ چنانچہ اس رؤیا کی بناء پر میں نے صدرانجمن احمد یہ کو توجہ دلائی کہ ان کا خاص خیال رکھا جائے ۔ چنانچہ اس خواب کے گواہ بھی موجود ہیں جن میں سے ایک مولوی سید سرور شاہ صاب ہیں ۔ مولوی سید سرور شاہ صاحب کے متعلق بالعموم یہ کہہ دیا جاتا ہے کہ یہ چونکہ صدرانجمن احمد یہ کے رکن ہیں اس لئے اس قسم کی گواہی دے دیتے ہیں حالانکہ وہ یہ نہیں سمجھتے کہ اس طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر یہ اعتراض وارد ہو گا کہ آپ نے جو صحابہ تیار کئے وہ نَعُوذُ بِاللهِ جھوٹ بولنے وا۔ لنے والے ہیں ۔ پھر مولوی سید سرور شاہ صاحب کی اکیلی گواہی نہیں کہ اسے قابل قبول نہ سمجھا جائے بلکہ اور بعض دوست بھی میرے اس رویا کے گواہ ہیں ۔ چنانچہ جب اس فتنہ کے خلاف جماعتوں نے ریزولیوشن (RESOLUTION) پاس کر کے میرے پاس بھیجے تو ان میں سے ایک