انوارالعلوم (جلد 14) — Page 509
انوار العلوم جلد ۱۴ مصری صاحب کے خلافت سے انحراف کے متعلق تقریر سی بات سے اسلام کو کتنا بڑا فائدہ پہنچا ہم آج اپنے زمانہ میں ان خرابیوں کا اندازہ نہیں کر سکتے جو مسلمانوں میں رائج ہوئیں مگر ایک زمانہ اسلام پر ایسا آیا ہے جب ہند و تمدن نے مسلمانوں پر اثر ڈالا اور اس اثر کی وجہ سے وہ اس خیال میں مبتلاء ہو گئے کہ نیک لوگ وہ ہوتے ہیں جو گندی چیزیں کھائیں اور جب بھی وہ کسی کو محمدہ کھانا کھاتے دیکھتے کہتے یہ بزرگ کس طرح کہلا سکتا ہے جب یہ ایسا عمدہ کھانا کھا رہا ہے ۔ حضرت خلیفة المسیح الاوّل ایک دفعہ مسجد اقصیٰ میں درس دے کر واپس اپنے گھر تشریف لے جا رہے تھے کہ جب آپ وہاں پہنچے جہاں آجکل نظارتوں کے دفاتر ہیں تو یہاں ایک ڈپٹی صاحب ہوا کرتے تھے جو ریٹائرڈ تھے اور ہندو تھے انہوں نے کسی سے سن لیا تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام پلاؤ کھاتے اور بادام روغن استعمال کرتے ہیں وہ اُس وقت اپنے مکان کے باہر بیٹھا تھا۔ حضرت خلیفہ اول کو دیکھ کر کہنے لگا مولوی صاحب ! ایک بات پوچھنی ہے ۔ فرمانے لگے کیا ؟ وہ کہنے لگا جی بادام روغن اور پلاؤ کھانا جائز ہے؟ حضرت خلیفہ اول نے فرمایا ہمارے مذہب میں یہ چیزیں کھانی جائز ہیں ۔ وہ کہنے لگا جی فقراں نوں بھی جائز ہے؟ یعنی جو بزرگ ہوتے ہیں کیا ان کے لئے بھی ان چیزوں کا کھانا جائز ہے ۔ آپ فرمانے لگے ہمارے مذہب میں فقروں کیلئے بھی یہ چیزیں جائز ہیں ۔ وہ کہنے لگا اچھا جی ! اور یہ کہہ کر خاموش ہو گیا۔ اب دیکھو اس شخص کو بڑا اعتراض یہی سوجھا کہ حضرت مرزا صاحب مسیح اور مہدی کس طرح ہو سکتے ہیں جب وہ پلاؤ کھاتے اور بادام روغن استعمال کرتے ہیں ۔ اگر صحابہ کا بھی ویسا ہی علمی مذاق ہوتا جیسے آجکل احمد یوں کا ہے اور وہ کدّو کا ذکر حد ذکر حدیثوں میں نہ کرتے تو نہ کرتے تو کتنی اہم بات ہاتھ سے جاتی رہتی ۔ حدیثوں میں آتا ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک دفعہ جمعہ کے دن اچھا سا جبہ پہن کر مسجد میں آئے سے اب اگر کوئی شخص ایسا پیدا ہو جو یہ کہے کہ اچھے کپڑے نہ پہنا فقروں کی علامت ہے تو ہم اُسے اِس حدیث کا حوالہ دے کر بتا سکتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن نہایت تعہد سے صفائی کرتے اور اعلیٰ اور عمدہ لباس زیب تن فرماتے بلکہ آپ صفائی کا اتنا تعہد رکھتے کہ بعض صوفیا نے جیسے شاہ ولی اللہ صاحب محدث دہلوی گزرے ہیں یہ طریق اختیار کیا ہوا اتھا تھا کہ وہ ہر روز نیا جوڑا کپڑوں کا پہنتے خواہ وہ ڈھلا ہوا ہوتا اور خواہ بالکل نیا ہوتا ۔ حضرت خلیفہ مسیح الاوّل کی طبیعت میں چونکہ بہت سادگی تھی اور کام کی کثرت بھی رہتی تھی اس لئے بعض دفعہ جمعہ کے دن آپ کپڑے بدلنا یا غسل کرنا بھول جاتے تھے اور اُنہیں کپڑوں میں جو آپ نے پہنے ہوئے