انوارالعلوم (جلد 14) — Page 493
انوار العلوم جلد ۱۴ ہر افتتاحی تقریر جلسه سالانه ۱۹۳۷ ء است بلکہ اس وقت وہ چیز اسی کو دے دی جاتی ہے۔ پھر جب یہ چھوٹی سے چھوٹی شرافت اور سخاوت جس سے تم کام لیتے ہو کہ جو شخص کسی اور کی چیز کو اپنے لئے انعام سمجھتا ہے، تم اس کے لئے وہ انعام بنا دیتے ہو، تمہارے اندر موجود ہے تو کس طرح ممکن ہے کہ خدا تعالیٰ کسی پر ابتلا ء لائے اور وہ اسے انعام سمجھے مگر خدا تعالیٰ اسے انعام نہ بنا دے ۔ خدا تعالیٰ یہی فیصلہ کرے گا کہ میرے اس بندے نے ابتلاء کو انعام سمجھا ہے، پھر میں کیوں نہ اسے انعام بنا دوں ۔ یہی نکتہ مولانا رومی نے اپنی مثنوی میں یوں بیان کیا ہے کہ :۔ بلاکیں قوم را حق داده است زیر آن گنج کرم بنهاده زیر آن گنج کرم بنهاده است کے یہی معنی ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو مصیبت آتی ہے، اس پر جب وہ الْحَمْدُ لِلهِ کہتا ہے تو خدا تعالیٰ اس موقع کو بھی اس کے لئے الْحَمْدُ کا موقع بنا دیتا ہے۔ پس حقیقی ابتلاء بھی انعامی بن جاتا ہے بشرطیکہ اسے انعامی بنا لیا جائے اور یہی چیز قوم کی ترقی کا موجب ہوتی ہے۔ بسط تو ہے ہی ترقی ، خدا تعالیٰ بھی فرماتا ہے کہ روشنی میں منافق بھی چل پڑتے ہیں ۔ پھر جب فتح ہوتی تو منافق بھی کہتے ہمیں حصہ دو۔ ہاں تنزل ابتلاء کے وقت ہوتا ہے ۔ اگر انسان ابتلاء کو انعام بنالے تو قدم آگے ہی آگے بڑھتا ہے ۔ پس ہماری روحانی اور دنیاوی ترقی خدا تعالیٰ نے ہمارے اختیار میں رکھی ہے ۔ ہم چاہیں تو اللہ تعالیٰ پر حُسن ظنی کر کے اور نیک خیال کر کے کہ جو کچھ وہ کرتا ہے بہتر ہی کرتا ہے اگر خدا تعالیٰ کی صفات کو (گو یہ لفظ بے ادبی کا ہے مگر چونکہ کوئی اور لفظ نہیں اس لئے یہی استعمال کیا جاتا ہے ) مجبور کر دیں اور اپنے متعلق یہ یقین رکھیں کہ خدا تعالیٰ کے انعام حاصل کر سکتے ہیں تو بڑے سے بڑا ابتلاء بھی انعام بن سکتا ہے اور چاہیں تو بدظنی کریں اور سزا چھوڑ انعام کو بھی سزا سمجھ لیں اور پھر اس کے مستحق بن جائیں اور جو خدا تعالیٰ پر یا اپنے نفس پر بدظنی کرتے ہیں ان کے ساتھ سزا والا معاملہ ہی کیا جاتا ہے۔ چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ۔ اَنَا عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِی بِی کے کہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے جیسا کوئی بندہ میرے متعلق گمان کرتا ہے میں اس کیلئے ویسا ہی بن جاتا ہوں ۔ اگر تکلیف اور ابتلاء کے وقت بھی مؤمن کہے خدا تعالیٰ کتنا بڑا محسن ہے اور اس نے مجھ پر کتنا بڑا احسان کیا ہے تو خدا تعالیٰ فرشتوں کو حکم دیتا ہے اس پر احسان ہی کر ولیکن اگر انسان انعام کو سزا سمجھ لے تو پھر سزا ہی پاتا ہے کیونکہ حُسن ظنی آگے کو لے جاتی ہے اور بدظنی پیچھے کو ۔ جو قو میں خدا تعالیٰ