انوارالعلوم (جلد 14) — Page 491
انوار العلوم جلد ۱۴ افتتاحی تقریر جلسه سالانه ۱۹۳۷ ء اسی طرح بدر کے موقع پر صحابہ نے مجبور کر کے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو پیچھے بٹھا دیا کہ آپ دعا کریں دشمن کا مقابلہ کرنا ہمارا کام ہے اور یہ بات رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قبول فرمالی کے ایک اور موقع پر جب کہ ضرورت اور حاجت بہت زیادہ تھی اور حالات بدتر تھے، ہے سپاہی کم تھے دشمن زور آور تھے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر میں نہیں بلکہ میدانِ جنگ میں تھے ، مسلمان سپاہ بھاگ گئی تھی اور صرف چند آدمی آپ کے پاس رہ گئے تھے، جب کہ چار ہزار تیر انداز آپ پر تیر برسا رہے تھے کہ صحابہ نے آپ کا گھوڑا روک لیا اور کہا کہ آپ پیچھے چلیں ۔ اُس وقت آپ نے فرمایا گھوڑا چھوڑ دو اور یہ کہتے ہوئے آگے بڑھے۔ اَنَا النَّبِيُّ لَا كَذِبُ - ۵ میں خدا کا نبی ہوں اور جھوٹا نہیں ہوں کیا یہ عجیب بات نہیں کہ ایک وقت تو شریعت اور قانون کی رو سے پہرہ ضروری قرار دیا جاتا ہے اور پسندیدگی کا اظہار کیا جاتا ہے مگر دوسرے موقع پر وہی انسان اور عمل ظاہر کرتا ہے۔ کوئی کہہ سکتا ہے کہ وہ میدانِ جنگ تھا اور میدانِ جنگ میں پہرہ کا کیا سوال مگر بدر بھی میدانِ جنگ ہی تھا وہاں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا کیا۔ لڑائی میں شریک ہونے کی بجائے الگ رہے ۔ یہ کیوں؟ اس لئے کہ مدینہ کا موقع اور وہاں کے حالات ایسے تھے جہاں مسلمانوں کا جتھہ مضبوط تھا اور مؤمن آپ کی حفاظت کرنے کیلئے تیار تھے وہاں آپ نے عام قانون استعمال کیا کہ حفاظت کیلئے انتظام اور تدابیر کرو۔ پھر بدر کے موقع پر بیشک میدانِ جنگ تھا مگر آپ کے پاس ایسے سپاہی تھے جو لڑ رہے تھے اور جنہوں نے آپ سے عرض کی تھی کہ آپ بیٹھے رہیں لیکن ہوازن کے مقابلہ پر اسلامی لشکر بھاگ چکا تھا اور صرف بارہ آدمی آپ کے پاس رہ گئے تھے ۔ تب وہ وقت آ گیا جب اس بات کا رسول کہ ، اس بات کا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم م ی اللہ علیہ وسلم عملی ثبوت پیش کریں کہ مسلمانو ! مجھے تمہاری امداد کی پروانہیں اگر کوئی امداد کرتا ہے تو ثواب حاصل کرے گا ورنہ میں اکیلا ہی دشمنوں کا مقابلہ کروں گا ۔ اس وقت عام قانون بر تنے کا وقت نہ تھا کیونکہ امن نہ تھا اور یہ وقت خدا تعالیٰ کی نصرت کا نظارہ دکھانے کا تھا۔ یہ قومی حالات قبض کے ہوتے ہیں اس وقت مسلمانوں کے اندر تزلزل پیدا ہو گیا ، لشکر بھاگ گیا۔ اس وقت جو لوگ آپ کے ساتھ رہے وہ کامل ایمان والے تھے۔ چنانچہ انہوں نے بہت اعلیٰ رُتبے پائے ۔ مثلاً حضرت ابوبکر، حضرت عمر، حضرت عثمان ، حضرت عباس اور بعض انصار بھی تھے، تو قوموں پر بھی قبض اور بسط کی دونوں حالتیں آتی ہیں اور افراد پر بھی ۔ مؤمن قبض کی حالت میں اور بھی زیادہ ایمان پر پختہ ہوتا اور اخلاص میں بڑھتا ہے۔ وہ بتا دیتا ہے کہ سامان وہ اس لئے استعمال کرتا ہے کہ خدا کا حکم ہے