انوارالعلوم (جلد 14) — Page 489
انوار العلوم جلد ۱۴ افتتاحی تقریر جلسه سالانه ۱۹۳۷ ء سکون والی ہوتی ہے اور یہ کمی محبت نہیں بلکہ محبت کی ایک قسم ہے، کبھی محبت جوش اور ولولہ والی ہوتی ہے ۔ کسی وقت ماں بیمار بچہ کو بار بار جگاتی اور پوچھتی ہے کہ کیا حال ہے۔ مگر دوسرے وقت ذرا آہٹ ہو تو شور مچا دیتی ہے کہ بچہ سو رہا ہے، شور مت کرو ۔ جب قبض اس رنگ کا ہو کہ ایمان کی حالت میں ، ایثار کی حالت میں ، قربانی کی حالت میں سکون ہو کمی نہ ہو تو یہ ایمان اور قربانی کی ایک قسم ہے لیکن جب قبض اس قسم کا ہو کہ انسان محسوس کرے شرعی احکام پر عمل کرنا اس کیلئے بوجھ اور خدا کیلئے قربانی کرنا دو بھر ہے تو یہ قبض ابتلاء والی ہوتی ہے یعنی خدا تعالیٰ امتحان لیتا ہے کہ یہ بندہ میرے ساتھ لذت کیلئے تعلق رکھتا ہے یا اسے مجھ سے حقیقی محبت ہے ۔ کئی لوگ نماز اس لئے پڑھتے ہیں کہ اس میں انہیں لذت لذت اور سرور اور سرور آتا ہے اور جب اس میں بھی ہو جا۔ میں کمی ہو جائے تو نماز پڑھنا چھوڑ بیٹھتے ہیں ۔ لیکن ایک اور انسان ہوتا ہے، اس پر اگر ایسی حالت آئے تو وہ کہتا ہے کہ جب نماز میں لذت آتی تھی تو وہ خدا تعالیٰ کا فضل ، انعام اور احسان تھا اور اب نہیں آتی تو مجھے اس وجہ سے عبادت نہیں چھوڑ دینی چاہئے ۔ دیکھو! بعض اوقات کوئی شخص کسی گاؤں میں جائے تو وہاں کے شرفاء میں سے کوئی کہتا ہے آؤ رس پیؤ ، گڑ کھاؤ کسی پیؤ ، کھانا کھاؤ۔ یہ ایک احسان ہوتا ہے لیکن اگر کوئی اس لئے کسی گاؤں میں جائے کہ لوگ کہیں کچھ کھا لو تو یہ کمینگی ہوگی ۔ اسی طرح وہ انسان جو سمجھتا ہے کہ لذت کا حاصل ہونا محض خدا تعالیٰ کا احسان ہے میرا فرض یہ ہے کہ ہر حالت میں اس کے حضور سرِ عبودیت خم کروں ۔ وہ جب اس دور میں سے گزر جاتا ہے تو اس کی روحانیت اور زیادہ ترقی پر ہوتی ہے کیونکہ خدا تعالیٰ کہتا۔ کہتا ہے جب میرے اس بندے نے اس حالت میں بھی مجھ سے تعلق نہیں تو ڑا جب کہ وہ لذت سے محروم ہو گیا تو میں کیوں نہ اسے ترقی دوں ۔ پس ایسے انسان کا قبض کے بعد بسط اس کے پہلے بسط سے زیادہ اعلیٰ ہوتا ہے۔ گویا اس کا ابتلاء اور قبض ایسا نہیں ہوتا جیسا کہ پتھر پانی میں پھینکا جائے بلکہ اس طرح ہوتا ہے جس طرح گیند زمین پر مارا جائے جو کہ اور زیادہ اونچا جاتا ہے۔ تیسری قسم کا انسان وہ ہوتا ہے جو قبض کی حالت میں خدا تعالیٰ کو چھوڑ بیٹھتا ہے وہ کہتا ہے اب مزا نہیں آتا ۔ جب کسی پر یہ حالت آتی ہے تو اس کے بعد اس کا ایمان ضائع ہو جاتا ہے۔ اس کا جب قبض گھلتا ہے تو اس میں بشاشت ایمانی نہیں ہوتی بلکہ بشاشت کفریہ پیدا ہو چکی ہوتی ہے، وہ ایمان کی بجائے کفر کے زیادہ قریب ہوتا ہے یا نفاق کے، وہ سمجھتا ہے اصل حقیقت یہی ہے پہلے میں غلطی پر رہا۔