انوارالعلوم (جلد 14) — Page 12
انوار العلوم جلد ۱۴ احرار اور منافقین کے مقابلہ میں ہم ہرگز کوئی کمزوری نہیں دکھائیں گے - ہے کہ ان باتوں کو روک دے اور اگر دخل ہے تو اس صورت میں ہم امید رکھتے ہیں کہ وہ صاف طور پر ہم سے کہہ دے کہ ہم تمہارے دشمن ہیں اور ہم سے کسی خیر کی توقع تم لوگ مت رکھو ۔ ان سب باتوں کا نتیجہ یہ ہوا ہے کہ یہاں کے بعض منافق بھی تھیں مارخاں بننے لگے ہیں ۔ کچھ تو علی الاعلان ایسی باتیں کرتے ہیں اور کچھ یہ طاقت تو نہیں رکھتے اس لئے علیحدہ علیحدہ آپس میں باتیں کرتے رہتے ہیں کہ ہم میں سے کسی کو جماعت سے نکالیں تو سہی ، ہم ایک جماعت ہیں ۔ لیکن انہیں معلوم ہونا چاہیئے کہ رسول کریم ﷺ کے زمانہ کے منافق بھی یہی پیغام بھیجتے رہتے تھے کہ جب ہم کو نکالا گیا تو ہم یہ کر دیں گے ، وہ کر دیں گے لیکن جب ان کو نکالا گیا تو کسی نے چوں تک نہ کی ۔ اسی طرح ان منافقوں میں سے ہم جب کسی کو نکالیں گے تو دوسرے سب دبک کر بیٹھ جائیں گے اور ان سے یہ کبھی نہ ہو سکے گا کہ نکل کر مقابلہ کریں ۔ اور اگر کریں گے تو انہیں یا د رکھنا چاہئے کہ منافق کافر سے زیادہ جلدی سزا پاتا ہے اس لئے اگر وہ مقابل پر آئے تو اللہ تعالیٰ انہیں فوراً تباہ کر دے گا ۔ ہمیں اپنی طاقت پر کوئی بھروسہ نہیں ہے اور ہم بے شک سزا نہیں دے سکتے لیکن ہمیں جس بالا حکومت نے کھڑا کیا ہے ، یہ لوگ اس کی سزا سے نہیں بچ سکیں گے۔ جب ہم اللہ تعالیٰ کی جماعت ہیں تو یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک طرف تو وہ ہمارے ہاتھ باندھے اور کہے کہ تم خود دشمنوں کا مقابلہ نہ کرو اور دوسری طرف ان کو سزا نہ دے۔ انسان کے متعلق تو کہا جا سکتا ہے کہ: در میان قعر دریا تخته بندم کرده باز می گوئی که دامن تر مکن هشیار باش مگر اللہ تعالیٰ کے متعلق یہ نہیں کہا جا سکتا۔ وہ جب مجبوریاں پیدا کرتا ہے تو ان کا علاج بھی خود ہی پیدا کر دیتا ہے ۔ ہمارا خدا وہ خدا ہے جس نے اگر سنکھیا پیدا کیا ہے تو ساتھ ہی تریاق بھی پیدا کر دیا ہے ۔ جس نے اگر سانپ اور بچھو پیدا کئے ہیں تو ان کے علاج بھی پیدا کئے ہیں۔ پھر یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ خدا تعالیٰ منافق کھڑے کرے ، ہمیں قانون کی پابندی کرنے کا حکم دے مگر ہماری مشکلات کا کوئی علاج نہ رکھے۔ اس نے ضرور علاج بھی رکھے ہوئے ہیں لیکن بات یہ ہے کہ خدا کی لاٹھی میں آواز نہیں ۔ وہ سزا ایسے رنگ میں دیتا ہے کہ انسان یہ سمجھتا بھی نہیں کہ اسے سزا مل رہی ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی ہمیشہ بٹالہ کے