انوارالعلوم (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 473 of 642

انوارالعلوم (جلد 14) — Page 473

انوار العلوم جلد ۱۴ قیام امن اور قانون کی پابندی کے متعلق جماعت احمدیہ کا فرض ہے۔ چنانچہ سورہ اعراف کی جو آیت میں نے اوپر درج کی ہے، اس میں یہی بتایا ہے کہ اگر انسان غصہ کے ماتحت کام کرے تو اُس کا کام عقل کی مدد سے نہیں ہوتا اور یہ ظاہر ہے کہ جس قوم کے کام عقل کی مدد سے نہ ہوں گے وہ کامیاب نہیں ہوسکتی۔ پس چاہئے کہ اپنے کاموں کو عقل کے تابع رکھے تا کہ ہر قدم اُٹھاتے ہوئے اُسے معلوم ہو کہ اس کا کیا نتیجہ نکلے گا ۔ اور وہ ان افعال سے بچ سکے جن کا نتیجہ بر انکلتا ہو۔ کسی پر جارحانہ حملہ کرنا خلاف شریعت ہے چوتھی بات ان آیات ے سے یہ یہ مستنبط ہوتی ہے کہ کسی شخص پر جارحانہ حملہ کرنا خلاف شریعت ہے۔ چنانچہ آیات مذکورہ بالا میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ قَاتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ الَّذِينَ يُقَاتِلُونَكُمْ یہ تو تمہارے لئے جائز ہے کہ اگر کوئی تم پر قاتلانہ حملہ کرے تو تم اپنا بچاؤ کر ولیکن تمہارے لئے یہ جائز نہیں کہ تم خود کسی پر جا کر حملہ کر دو۔ مقررہ حدود کے اندر دفاع جائز ہے پانچواں استنباط ان آیات سے یہ ہے ہوتا ہے کہ دفاع بھی وہ جائز ہے جو مقررہ حدود کے اندر ہو۔ یعنی دفاع میں بھی انسان پوری طرح آزاد نہیں اس کے لئے بھی قیود اور شرائط ہیں اور ان قیود اور شرائط سے آزاد ہو کر جو دفاع کیا جائے وہ بھی نا جائز اور حرام ہوتا اور ہو ہے۔ مثلاً کوئی شخص کسی کو تھپڑ مارے تو جس شخص کو تھپڑ مارا گیا ہے اس کیلئے یہ درست نہ ہوگا کہ اس تھپڑ سے بچنے کیلئے دوسرے شخص کا سر پھوڑ دے۔ چھٹی بات ان آیات سے یہ مستنبط مظلوم جو خدا کی نظر سے گر جاتا ہے کوئی بات ان آیات میرے ا ہو ہوتی ہے کہ اگر کوئی ان قیود کو توڑ دے تو با وجود مظلوم ہونے کے خدا تعالیٰ کی نظروں سے وہ گر جائے گا کیونکہ فرماتا ہے إِنَّ اللَّهَ لا يُحِبُّ الْمُعْتَدِينَ اگر تم دفاع میں بھی اعتداء سے کام لو اور خدا تعالیٰ کی مقرر کردہ قیود کو نظر انداز کر دو، تو تم اللہ تعالیٰ کی محبت کھو بیٹھو گے اور اس کی نصرت تم سے جاتی رہے گی ۔ یہ وہ احکام ہیں جو قرآن کریم نے اصولی طور پر ہمیں اپنے مخالفوں کے مقابلہ کیلئے دیئے ہیں اور اس میں کیا شک ہے کہ جب تک ہم ان قواعد کی پابندی نہیں کرتے نہ ہمارا ایمان کامل ہو سکتا ہے اور نہ ہم کامیاب ہو سکتے ہیں اور اس میں بھی کیا شک ہے کہ اگر ہم خود قرآن کریم کے احکام کو اپنی سب ضروریات کو پورا کرنے والا قرار نہ دیں تو ہم دشمنوں کے سامنے یہ دعویٰ