انوارالعلوم (جلد 14) — Page 456
انوار العلوم جلد ۱۴ موجودہ فتنہ میں گھر کی تمام طاقتوں کا ہمارے خلاف اجتماع ۔۔۔۔۔ ایک لاکھ چوبیس ہزار نبی مبعوث ہوئے ہے وئے ہیں ۔ لیکن ان ایک لاکھ چوبیس ہزار نبیوں میں ایک نبی بھی ایسا نہیں گزرا کہ اس نے آسمانی آواز اُٹھائی ہو اور گھر دھوکا کھا کر اُس کے ساتھ ہو لیا ہو اور بعد میں اُسے معلوم ہوا ہو کہ میری غلطی تھی بلکہ گھر کی نگاہ تو اتنی تیز ہوتی ہے کہ وہ انبیاء کے دعوی نبوت سے پہلے ہی خدا کی آواز کو پہچان لیتا ہے ۔ جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے براہین احمد پہ یکھی تو اُس وقت آپ کو خود بھی معلوم نہ تھا کہ خدا تعالیٰ آپ کو نبی بنانے والا ہے اور آپ نہیں سمجھتے تھے کہ خدا تعالیٰ کے الہامات سے کیا مراد ہے لیکن لدھیانہ کا ایک مولوی اُس وقت اُٹھا اور اُس نے اس کتاب کو پڑھ کر اُسی وقت کہہ دیا کہ اس شخص نے نبوت کا دعوئی کرنا ہے اس کی ابھی سے مخالفت شروع کر دو۔ اُس وقت مولوی محمد حسین بٹالوی کو بھی یہ خیال نہ آیا۔ چنانچہ اُس وقت انہوں نے اس کتاب کی تائید میں ایک ریویو لکھا۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے دعوی نبوت کے بعد جب مولوی محمد حسین آپ کے خلاف لدھیانہ میں فتویٰ لینے گئے تو اُس مولوی نے انہیں کہا اب تم میرے پاس فتویٰ لینے آئے ہو کیا میں نے اُسی وقت نہ کہہ دیا تھا کہ مرزا صاحب کی مخالفت کر ولیکن اُس وقت تم نے ان کی تائید کی ۔ یہ وہ وقت تھا جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اپنے الہام کی حقیقت کو خود بھی نہیں سمجھے تھے لیکن اس شخص نے اُسی دن پہچان لیا کہ مرزا صاحب نبوت کا دعوی کرنے والے ہیں۔ بعد میں تو سب مخالف اُٹھ کھڑے ہوئے اور مولوی محمد حسین نے بھی جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تائید میں تھے ، آپ کی مخالفت شروع کر دی ۔ ان سب حالات کو سامنے رکھ کر آپ موجودہ واقعات پر نظر ڈالیں اور دیکھیں کہ مولوی عبد الرحمن صاحب کس جرم میں قید ہوئے ۔ ہم دیکھتے ہیں کہ آج سے چند ماہ پہلے ایک احمدی کی لڑکی فوت ہو گئی ، احمدی اسے اُس قبرستان میں لے گئے جو ہمارے آباء واجداد کا قبرستان ہے۔ احراریوں نے احمدی لڑکی کی نعش کو اس قبرستان میں دفن ہونے سے روکا ، اس لئے کہ احمدی ان کے نزدیک نا پاک اور نجس ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ان کے زندے تو الگ رہے ان کے مُردے بھی گندے ہیں اور اس لائق نہیں کہ اس قبرستان میں دفن کئے جاسکیں ۔ غرض ان لوگوں نے احمدیوں کو نعش کے دفن کرنے سے روکا۔ بعض احمد یوں نے انہیں ہٹایا اور اس پر ان کے درمیان ہاتھا پائی ہوگئی اور جیسا کہ اس قسم کے اشتعال کا قدرتی نتیجہ ہوتا ہے ، بعض احمد ی لڑکوں نے ان کو مارا لیکن جہاں تک ہماری تحقیق کا تعلق ہے ، مولوی عبدالرحمن صاحب ان لوگوں میں