انوارالعلوم (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 426 of 642

انوارالعلوم (جلد 14) — Page 426

انوار العلوم جلد ۱۴ جماعت احمدیہ کے خلاف ۔۔۔۔۔۔ میاں فخر الدین ملتانی کا حصہ کا غذات محفوظ نہیں رہے ورنہ ان سے ثابت کیا جا سکتا تھا کہ میں نے زور سے ڈاکٹر احسان علی صاحب کے ٹھیکہ میں روک ڈالی تھی مگر اب چونکہ صرف یادداشتوں پر بناء ہے میں نیر صاحب کے بیان پر اکتفا کرتا ہوں ۔ جو ذیل میں درج ہے ۔ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ میں اللہ تعالیٰ کو حاضر و ناظر سمجھ کر بیان کرتا ہوں کہ :۔ ڈاکٹر احسان علی صاحب کو پٹرول کا ٹھیکہ دینے میں ( حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ) کی طرف ا۔ سے قطعاً اشار تا یا کنا یا کوئی ہدایت نہ تھی ۔ ) المسیح ۲۔ بلکہ حضرت میاں بشیر احمد صاحب نے غالباً حضرت کے ایماء سے احسان علی صاحب کو ٹھیکہ دینے سے روکا تھا اور میرے اصرار پر میری ذمہ واری پر اجازت دی تھی ۔ ۔ چونکہ احسان علی قادیان کا لائسنسد ارصاحب جائیداد احمدی تھا، وقت کم تھا، پٹرول کے انتظام کے فیل ہو جانے کا خطرہ تھا اس لئے گلیہ اپنی ذمہ داری پر ٹھیکہ کا معاہدہ کیا تھا۔ ۴۔ قادیان میں پڑ پٹرول کا نرخ ( ایک روپیہ تیرہ آ نہ ) گیلن تھا۔ مگر معاہدہ میں ( ایک روپیہ بارہ آنہ) پر طے کیا گیا ۔ اور بٹالہ میں کمپنیوں کے مساوی نرخ پر پٹرول لینا طے کیا گیا۔ ۔ دوسرے انتظام کی کوشش کی گئی مگر کمپنی نے پانچ سو روپیہ پیشگی اور ہر سو روپیہ کے بعد ادائیگی کا مطالبہ کیا اور وقت پر دھوکا دینے کا خطرہ تھا اس لئے قادیان کے احمدی لائسنسد ار کو منتخب کیا گیا۔ ۶۔ کسی احمدی نے ٹھیکہ لینے پر آمادگی کا اظہار نہیں کیا تھا۔ ے۔ احسان علی اور ان کے والد نے بھی انکار کر دیا تھا۔ میں نے اس شرط پر کہ اِنشَاءَ اللهُ آپ کو نقصان نہ ہونے دوں گا میں ذمہ دار ہوں اور سو روپیہ بطور قرض پیشگی ان کو رضامند کیا تھا۔ غرض تمام ٹھیکہ پٹرول کی ذمہ داری گلینڈ میری ہے ۔ جس میں انجمن کے مفاد مد نظر تھے ۔ حضرت کا اِس معاملہ میں قطعاً کوئی اشارہ اور ہرگز کسی قسم کی ہدایت نہ تھی کہ احسان علی سے معاملہ کیا جائے وَاللَّهُ عَلَى مَا أَقُولُ شَهِيدٌ وَلَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الْكَاذِبِينَ - عبد الرحیم نیر ۲۹-۶ - ۱۹۳۷ء