انوارالعلوم (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 421 of 642

انوارالعلوم (جلد 14) — Page 421

انوار العلوم جلد ۱۴ جماعت احمدیہ کے خلاف ۔۔۔۔۔۔ میاں فخر الدین ملتانی کا حصہ اس تحریر سے ظاہر ہے کہ مرزا عبدالحق صاحب کی رائے بھی وہی تھی جو شیخ بشیر احمد صاحب کی تھی اور میں نے اس معاملہ میں جو کچھ کیا وہ سلسلہ کے بہترین وکلاء کے مشورے کے ماتحت کیا اور سلسلہ کے فائدہ کے لئے کیا نہ کہ کسی ذاتی لگاؤ کی وجہ سے ۔ مگر ان لوگوں کا یہ حال ہے کہ یہ اپنے ذاتی غصہ پر جماعت کے فوائد کو قربان کرنا چاہتے تھے اور جماعت کو حکومت کی نگاہ میں زیر الزام لا گرفتنہ میں ڈلوانا چاہتے تھے اور پھر یہ دیدہ دلیری کہ مرزا عبدالحق صاحب کی قانونی حیثیت کو غلط طور پر استعمال کر رہے تھے اور اُن کی طرف وہ بات منسوب کر رہے تھے جو اُ نہوں نے نہ کہی تھی ۔ غرض واقعات یہ ہیں کہ میں ہر قدم پر دوسرے فریق کو سرزنش کرتا چلا گیا ہوں اور ان کی تائید کرتا چلا گیا ہوں مگر یہ لوگ کسی اندرونی بغض سے متاثر ہو کر جس کا اظہار اب آ کر ہوا ہے دانستہ لوگوں کو دھوکا دینے کیلئے پروپیگنڈا کرتے رہے ہیں کہ ڈاکٹر احسان علی کی رعایت کی جا رہی ہے اور یہ لوگ مظلوم ہیں ۔ پھر فخر الدین صاحب نے اپنے بیان میں لکھا ہے کہ احسان علی نے ایک تحریر امور عامہ میں لکھ دی تھی کہ حضرت میاں شریف احمد صاحب نے احسان علی کو مشورہ دیا کہ تم في الفور جا کر راجہ عمر دراز سب انسپکٹر بٹالہ کو قابو کر لو ۔ دروغ بر گردن راوی ۔ چند حلفیہ شہادتیں (اس کے متعلق حضور نے حضرت میاں صاحب سے سے حلفی بیان طلب فرمایا۔ اور انہوں نے کھڑے ہو کر حلفا اس بات سے انکار کیا۔ پھر حضور نے ناظر صاحب امور عامہ سے حلفی بیان لیا۔ اور انہوں نے حلفیہ طور پر بیان کیا کہ احسان علی صاحب نے امور عامہ میں کوئی ایسی تحریر نہیں دی۔ اس کے بعد کلرک نظارت امور عامہ سے حلفی بیان لیا گیا۔ اور انہوں نے بھی حلفی بیان دیا کہ ڈاکٹر احسان علی کی ایسی تحریر میری نظر سے ہر گز نہیں گزری ۔ اب آپ لوگ دیکھیں کہ میرے بعد یہ شخص میاں شریف احمد صاحب پر نہایت نا پاک الزام لگاتا ہے کہ انہوں نے مجرم کی امداد کے لئے ناجائز طور پر پولیس کو قابو کرنے کا مشورہ دیا اور ایسا صریح جھوٹ بولتا ہے کہ احسان علی نے امور عامہ کو ایسی تحریر لکھ کر دی مگر کوئی کارروائی نہیں ہوئی ۔ حالانکہ میاں شریف احمد صاحب حلفیہ اس مشورہ سے انکار کرتے ہیں ، ۔ ناظر امور عامہ اور ان کا کلرک اس تحریر کے موصول ہونے اور اس کے دیکھنے سے انکار کرتے ہیں ، اِس سب جھوٹ کے باوجود یہ لوگ مظلوم ہیں اور ہمارا خاندان ظالم اور ابھی اس کے اخلاص اور ایمان میں بھی کوئی فرق نہیں آتا گویا یہ ایمان ان کا مولوی ثناء اللہ صاحب والی