انوارالعلوم (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 412 of 642

انوارالعلوم (جلد 14) — Page 412

انوار العلوم جلد ۱۴ جماعت احمدیہ کے خلاف ۔۔۔۔۔ میاں فخر الدین ملتانی کا حصہ ہے جیسا کہ قابل احترام بڑے رشتہ دار کو دیکھنا چاہئے اور اب تک اسی نگاہ سے دیکھتا ہوں ۔ ان کے بچوں سے بھی ، ان کے والد اور والدہ کے لحاظ سے میرے تعلقات ہیں۔ بعض کی احمدیت سے ذاتی محبت کی وجہ سے زیادہ ، بعض کی بے پرواہی کی وجہ سے کم ۔ آگے رہے ان کے رشتہ داران سے تعلقات صرف ان تعلقات کی بناء پر ہیں جو وہ خود رکھتے ہیں ۔ میری سوتیلی ساس کے دو بھائی میرے بچپن کے دوست ہیں ، ڈاکٹر اقبال علی صاحب اور شیخ منظور علی صاحب ۔ یہ میرے ساتھ سکول میں پڑھتے رہے ہیں ، دونوں ہی میرے دوست ہیں لیکن اقبال میں اور مجھ میں بچپن سے ہی محبت چلی آتی ہے۔ اب اپنے کاموں کی وجہ سے ہم میں ؟ بی خط و کتابت نہیں ہے إِلَّا مَا شَاءَ اللهُ ، سالوں کے بعد بھی ، مگر احمدیت کے تعلق کے علاوہ بھی ذاتی دوستی کو مد نظر رکھتے ہوئے اگر میں اپنے دل کو معیار قرار دوں تو ہم دونوں کے دلوں میں اب بھی گہری برادرانہ محبت ہے ہر اس دو ہے مگر اس دوستی کا کا موجب احمدیت ہی یت ہی تھی اور احمدیت ہی ہے، رشتہ داری اس کا ا موجب نہ پہلے تھی اور نہ اب ہے۔ غرض اس تعلق کو رشتہ داری کا تعلق کہنا ایک لغو بات ہے۔ میری ان میں سے جس سے محبت ہے دین کی وجہ سے ہے اور اگر وہ تعلق نہ رہے تو مجھے ان سے ذرا بھی تعلق نہیں ۔ وہ ایسے ہی اجنبی ہیں جیسے کہ اور اجنبی ۔ پھر یہ کیونکر ہوسکتا ہے کہ ان کے رشتہ داروں کے جرائم پر میں ان کی خاطر پردہ ڈالوں ۔ چند سال کی بات ہے میرے دو سالوں خلیفہ صلاح الدین اور خلیفہ ناصر الدین سے کوئی جرم ہوا تھا ، کسی سلسلہ کے کارکن کی ہتک تھی ۔ یا مار پیٹ تھی میں نے اس بارہ میں ان کی رشتہ داری کا ذرہ بھی لحاظ نہیں کیا تھا اور نہ اب کرنے کو تیار ہوں۔ خلاصہ یہ کہ ملزم کے بارہ میں رشتہ داری کا سوال مخالف و موافق دونوں فریق نے ذاتی فوائد کیلئے ناجائز طور پر اٹھایا ۔ ایک نے ملزم کیلئے رعایت کی تلاش میں اور دوسرے نے اپنے آپ کو مظلوم ثابت کرنے کیلئے ۔ اس بارہ میں دونوں ظالم تھے مگر دوسرے کا ظلم زیادہ تھا کیونکہ پہلا مجرم کو سزا سے بچانے کیلئے اس کی آڑ لیتا تھا اور دوسرا ایک ناکردہ گناہ کو اور اس ناکردہ گناہ کو جس کے ہاتھ پر اُس نے بیعت کی ہوئی تھی ، مجرم ثابت کرنے کیلئے اور حقیقت سے دونوں دور تھے۔ میں انصاف اور صرف انصاف کو قائم کر رہا تھا ۔ ات سے دُور مقدمہ کو کامیاب بنانے کی کوشش اتی تھا کہ میں نے انچارج صاحب تھا نہ کو بُلا کر یہ سمجھانے کی کوشش کی کہ میرا رشتہ دار کہہ کر اگر کوئی ملزم کی تائید ان سے کرانا چاہے تو ہرگز