انوارالعلوم (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 410 of 642

انوارالعلوم (جلد 14) — Page 410

انوار العلوم جلد ۱۴ جماعت احمدیہ کے خلاف ۔۔۔۔۔۔ میاں فخر الدین ملتانی کا حصہ اپنے کئے کی سزا پائے کیونکہ اگر ایسے امور جاری رہیں تو قومی اخلاق خراب ہو جاتے ہیں ۔ پس ملزم کی رعایت گویا ہم پر ظلم ہوگا ۔ آخر ہوگا ۔ آخر میں میں نے انہیں یہ بھی کہا کہ یہ نہیں ہونا چاہئے کہ مقدمہ کے بعد آپ کہدیں کہ ہم نے تو کوشش کی تھی مگر پھر بھی عدالت نے ملزم کو چھوڑ دیا۔ واقعات روز روشن کی طرح ثابت ہیں ، ملزم خود اقراری ہے اب اگر وہ چھوٹے تو اس کا یہ مطلب ہو گا کہ پولیس نے صحیح طور پر مقدمہ کی پیروی نہیں کی اور وہ مجھ سے یہ وعدہ کر کے کہ بالکل سچی کارروائی ہوگی ، رُخصت ہوئے ۔ اس گفتگو کی صحت کا مزید ثبوت یہ ہے کہ جب سپر نٹنڈنٹ صاحب پولیس کو پولیس کی سستی کی طرف توجہ دلائی گئی تو انچارج صاحب تھا نہ نے بیان دیا کہ ہم سستی نہیں کر سکتے تھے کیونکہ خود امام جماعت احمد یہ نے اس فعل سے بریت ظاہر کرتے ہوئے ہمیں تاکید کی تھی کہ اس چوری کو چُھپانا نہیں بلکہ نکالنا چاہئے ، پس اس کے بعد ہمیں کسی دوسرے کا لحاظ کس طرح ہو سکتا تھا۔ وہ صا۔ ا۔ وہ صاحب اب بھی ضلع گورداسپور میں ہیں اور گو انہیں نظام سلسلہ سے بعض اختلافات پیدا ہو چکے ہیں مگر میں امید کرتا ہوں کہ وہ اس گواہی کو نہیں چھپائیں گے اور مجھے رپورٹ بھی ملی ہے کہ جب ان سے ایک احمدی نے اس کا ذکر کیا تو انہوں نے کہا، میں یہ سچی گواہی ہر جگہ دینے کو تیار ہوں ۔ کچھ رشتہ داری کے متعلق اس جگہ میں رشتہ داری کے متعلق بھی کچھ کہ دینا مناسب سمجھتا ہوں ۔ مجھے افسوس ہے کہ دونوں فریق نے اس سے ناجائز فائدہ اُٹھانے کی کوشش کی ہے۔ ملزم میری بڑی بیوی کی سوتیلی والدہ کے بھائی کا بیٹا ہے۔ یہ تعلق ایک رنگ میں رشتہ داری ہے اور ایک رنگ میں نہیں بھی ۔ ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب مرحوم فوت ہو چکے ہیں ۔ وہ ایک پُرانے صحابی السَّابِقُونَ الْأَوَّلُونَ اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خاص حواریوں میں سے تھے۔ سلسلہ کی انہوں نے اس قدر خدمت کی کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے آخر انہیں ایک خط لکھا کہ اس قدر مالی خدمت کے بعد اب آپ کو مزید کو مزید خدمت سے آزا سے آزاد کیا جاتا ہے مگر وہ اس روه استطاعت سے بڑھ بڑھ کر ہمیشہ مالی خدمت کرتے رہے، صاحب الہام و کشف تھے اور سلسلہ کی خدمت کا جوش رکھتے تھے۔ میں ان پر حرف گیری نہیں کرتا ، انسان کے اندرونی حالات سے دوسرا انسان واقف نہیں ہوسکتا ، میں نہیں جانتا کہ کون سی معذوریاں انہیں تھیں جن کی وجہ سے وہ خدا تعالیٰ کے حضور اپنے آپ کو بری سمجھتے تھے مگر حقیقت حال یہ تھی کہ انہوں نے اپنی بڑی بیوی کو جو میری ساس ہیں، اپنے سے