انوارالعلوم (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 404 of 642

انوارالعلوم (جلد 14) — Page 404

انوار العلوم جلد ۱۴ جماعت احمدیہ کے خلاف ۔۔۔۔۔۔ میاں فخر الدین ملتانی کا حصہ خدا تعالیٰ کے حضور گریہ وزاری کرو اور اُسے کہو کہ تو جانتا ہے ہم مجرم نہیں ہیں ۔ اور اگر واقعی تمہارا بچہ مجرم نہیں تو وہ اسے ضرور بچالے گا۔ چنانچہ اس نے میری نصیحت پر عمل کیا اور میرے سامنے ہی لعنتیں ڈال ڈال کر دعائیں کرنی شروع کیں ۔ اور میں نے دل میں اُسی وقت کہا کہ یا تو اس کا بچہ بچ جائے گا اور اگر مجرم ہے تو تباہ ہو جائے گا۔ شمس الدین کی والدہ نے مجھ سے بھی درخواست کی کہ میں اُس کے بچہ کو بُلا کر سب حالات سنوں تا کہ مجھے حقیقت معلوم ہو جائے میں نے اُسے کہا کہ اُسے میرے پاس بھیج دینا چنانچہ وہ آیا اور اُس نے حالات سنائے جن سے میرے دل پر یہ اثر ہوا کہ یہ لڑکا چور نہیں ہے۔ دوسرے تیسرے دن مجھے ناظر امور عامہ نے اطلاع دی کہ مصری صاحب کی پارٹی کا خیال ہے کہ عبدالرحمن برادرا حسان علی بھی چوری میں شریک ہے۔ اس پر میں نے اُن سے کہا کہ شمس الدین پر شک کی تو ایک وجہ بتائی گئی ہے کہ اس کی گھر میں آمد و رفت تھی اور کنجی کا راز اُسے معلوم تھا، غیر کو معلوم نہیں ہو سکتا تھا۔ عبدالرحمن پر شک کیلئے اگر کوئی قرینہ ہو تو بتائیں، ورنہ شریعت کی رو سے وہ خود زیر الزام آ جائیں گے اور اس طرح بجائے فائدہ کے نقصان اُٹھائیں گے۔ شمس الدین پر شک کی وجہ ایسی تھی کہ اس پر سوال اور جرح کی جاسکتی تھی اسی طرح کسی اور پر فربہ کیلئے بھی کوئی وجہ ہونی چاہئے ۔ یہ بات ان کے فائدہ کی تھی کیونکہ بلا وجہ کسی پر شک کرنے سے آدمی خود زیر الزام ہو سکتا ہے اور مظلوم ہوتے ہوئے الٹا ظالم کے مقام پر کھڑا ہو جاتا ہے۔ میں تسلیم کرتا ہوں کہ چوری وغیرہ کی قسم کے جرائم میں شکوک پر تحقیق کی بنیاد ہوتی ہے مگر شکوک تخمینیہ پر اس کی بنیاد ہوتی ہے نہ کہ شکوک وہمیہ پر ۔ پس میں نے ان کے فائدہ کی ان کو بات کہی اور چونکہ انہوں نے جہاں تک میرا علم ہے کوئی ایسی تخمینی بات اُس وقت مجھے نہیں بتائی جس سے اس کے خلاف کارروائی کی جاتی، میں نے یہی خیال کیا کہ وہ اس نصیحت کو صحیح تسلیم کرتے ہیں مگر مجھے یہ معلوم نہ تھا کہ انہوں نے اسے ظلم قرار دے کر اپنے دل میں ایک گرہ دے لی ہے ۔ مگر بعد کے واقعات بتاتے ہیں کہ ان کا عبد الرحمن کا نام لینا کسی حقیقت پر مبنی نہ تھا کیونکہ اس وقوعہ کے عرصہ بعد جب سپرنٹنڈنٹ صاحب کے پاس ناظر امور عامہ ہو آئے تھے ، دار الحمد کے باغ میں مصری صاحب نے مجھ سے ذکر کیا کہ فلاں شخص کے پاس اس امر کے ثبوت ہیں کہ عبد الرحمٰن چوری میں شامل تھا۔ وہ شخص غالباً قادیان سے چلا گیا اور میں اُس سے کچھ نہ پوچھ سکا۔ لیکن اسی عرصہ میں حکومت کی طرف سے ایک انسپکٹر پولیس اور ایک تھا نہ دار ناظر امور عامہ کے سپرنٹنڈنٹ صاحب کو ملنے کے نتیجہ