انوارالعلوم (جلد 14) — Page 398
انوار العلوم جلد ۱۴ جماعت احمدیہ کے خلاف ۔۔۔۔۔۔ میاں فخر الدین ملتانی کا حصہ کہا گیا ہے کہ میں نے مولوی ظفر محمد صاحب سے کہا کہ تم ان خدمات کے بدلہ میں ناظر بنا دیئے جاؤ گے۔ اوّل تو مجھے یہ یاد نہیں ۔ پھر ممکن ہے مذاق میں میں نے اس سے بھی بڑھ کر الفاظ کہے ہوں ۔ خود مولوی ظفر محمد صاحب مجھ سے مذاق کر لیتے ہیں ۔ ابھی تھوڑے دن ہوئے مجھے ملے اور ہنس کر کہا کہ اب میں امور عامہ میں آ گیا ہوں (یعنی اب تمہاری خبر لوں گا ) اسی طرح خان صاحب فرزند علی صاحب نے مذاق میں مجھ سے کہا مجھے ناظر امور عامہ بننے دو، پھر خبر لوں گا مگر یہ سب باتیں مذاق کی ہیں ۔ کیا پرانا خادم ہونے کی حیثیت سے حضرت صاحب کا فرض نہ تھا کہ مجھے بلا کر مر بیا نہ طور پر سمجھا دیتے ۔ حضرت عمر کے رو برو تو لوگ کھڑے ہو کر اپنے اعتراضات پیش کر دیا کرتے تھے اور اپنے مطالبات مرارت آمیز طریق پر پیش کر دیا کرتے تھے لیکن اب مقرر کردہ آدمیوں کے ذریعہ سے بات پہنچائی جائے تو اس پر بھی گرفت کی جاتی ہے۔ اگر میں تحقیق کے موقع پر باتیں بیان نہ کرتا تو منافق قرار پاتا ۔ اب بیان کر دی ہیں تو ملزم گردانا گیا ہوں ۔ پہلے خلفاء لوگوں کی تکالیف چھپ چھپ کر معلوم کرتے تھے مگر یہاں معاملہ اور ہے ۔ بجائے داد رسی کے الٹا ہم پر مقدمہ چلایا گیا ہے ۔ حضرت خلیفة المسیح الثانی کی تقریر اس بیان کی بنیادی کڑی جس پر ساری بنیاد ہے، یہ ہے کہ میں فخرالدین صاحب پر بلا وجہ ناراض ہوا اور ان کیلئے سی ۔ آئی ۔ ڈی مقرر کر دی جو یہ تین آدمی ہیں ۔ مولوی تاج دین صاحب ، مولوی عبدالاحد صاحب اور ماسٹر غلام حیدر صاحب ۔ یہ تینوں صاحب آگے آ جائیں ۔ مولوی تاج الدین صاحب ، مولوی عبدالاحد چنانچہ یہ تینوں آگے آ گئے اور حضور نے صاحب اور ماسٹر غلام حیدر صاحب کا حلف ان کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ آپ تینوں جانتے ہیں کہ یہ مسجد اقصیٰ ہے جس کے متعلق قرآن کریم اور رسول کریم ﷺ نے پیشگوئیاں فرمائی ہیں اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے نزدیک بھی یہ جگہ نہایت ہی اہمیت رکھتی ہے۔ اس مقام پر میں خلیفہ وقت ہونے کی حیثیت سے آپ لوگوں کو حلف دیتا ہوں آپ لوگ لَعْنَتِ اللهِ عَلَى الْكَاذِبِينَ کی وعید کو یادرکھتے ہوئے قسم اُٹھائیں