انوارالعلوم (جلد 14) — Page 388
انوار العلوم جلد ۱۴ جماعت احمدیہ کے خلاف ۔۔۔۔۔۔ میاں فخر الدین ملتانی کا حصہ کے خلاف پروپیگنڈا کرنے کی بجائے معاملہ کو خدا اور اس کے رسول کے سپرد کر دو، اگر تمہارا خدا اور آخرت پر ایمان ہے، اگر تمہارا خدا زندہ ہے تو کیا تم سمجھتے ہو کہ وہ کسی بد باطن اور شریر کو تم پر ظلم کرنے دے گا ، اگر تم نظام کیلئے قربانی کرتے ہو تو کیا قیامت کے روز اللہ تعالیٰ کی طرف سے تمہیں اس کا اجر نہ مل سکے گا۔ رسول کریم ﷺ نے تو فرمایا ہے کہ اگر اس دنیا میں ایک بکری نے دوسری کو سینگ مارا ہو گا تو اللہ تعالیٰ اس بکری کے سینگ کا بھی بدلہ لے گا ۔ پھر تم کس طرح خیال کرتے ہو کہ تمہارے ساتھ اگر ظلم ہوگا تو اللہ تعالیٰ اس کا بدلہ نہ دے گا ۔ پھر تم گھبراتے کیوں ہو۔ ذَلِكَ خَيْرٌ وَأَحْسَنُ تَأْوِيلاً یہ سب سے بہتر اور انجام کے لحاظ سے بہت اعلیٰ بات ہے۔ پس اللہ تعالیٰ کی طرف سے قانون یہی ہے کہ جو امیر ہو، خواہ چھوٹا ہو خواہ بڑا، یا خلیفہ ہو، تمہیں ان کی فرمانبرداری کرنی چاہئے ۔ اگر اس کے فیصلہ پر تمہیں اعتراض ہوا اور تم سمجھتے ہو کہ تم مظلوم ہو اور بد دیانتی سے تمہارے امیر نے ظلم نہیں کیا ، تو اللہ تعالی تمہاری مدد کرے گا اور وہ بھی معذور سمجھا جائے گا اور اگر امیر نے ظلم کیا ہے تو بھی معاملہ کو خدا اور اس کے رسول کے سپرد کر دو اور اطمینان رکھو کہ اگر قیامت کا کوئی دن ہے تو اس ظلم کا خود خدا تعالیٰ بدلہ لے گا۔ اس قانون کو دو تو نہ کوئی حکومت باقی رہتی ہے اور نہ کوئی نظام ۔ اور باتوں کو تو جانے دو صرف یہی لے لو جو کہتے ہیں کہ خلیفہ غلطی کر سکتا ہے۔ میں کہتا ہوں کہ ہیڈ ماسٹر بھی غلطی کر سکتا ہے یا نہیں؟ پھر اگر یہ ہو کہ ہر لڑکا کھڑا ہو اور ہیڈ ماسٹر سے کہے کہ آپ نے فلاں ظلم مجھ پر کیا ہے تو کوئی انتظام رہ سکتا ہے؟ پھر اگر کہتے ہیں خلیفہ غلطی کر سکتا ہے تو کیا کوئی تاجر کتب غلطی نہیں کر سکتا ؟ پھر کیا دنیا بدل امیرے میں یہی طریق ہے کہ ہر کتا۔ ہ ہر کتاب کی قیمت پر مباہلے اور چیلنج ہوتے ہیں ۔ ابھی ایک جھگڑا میر ۔ نوٹس میں لایا گیا ہے کہ کئی سال ہوئے ماسٹر احمد حسین صاحب مرحوم فرید آبادی کے لڑکے نے کچھ کتب میاں فخر الدین صاحب کو برائے فروخت دی تھیں، کئی سال کے بعد جب قیمت کا مطالبہ کیا تو میاں فخرالدین صاحب نے کہا کہ میں نے وہ کتا بیں نصف قیمت پر فروخت کی ہیں اس لئے نصف کمیشن کاٹنے کے بعد دوں گا ۔ اب اس سے یہ کیوں نہ سمجھ لیا جاتا کہ ان کا یہ قول بد دیانتی پر بنی ہے اور کہ وہ یتیم کا مال کھانا چاہتے ہیں ۔ گو اس بچہ نے ان کی بات کو مان لیا اور میاں فخر الدین صاحب نے اس رقم کے ادا کرنے کا اقرار کر لیا مگر وہ بچہ سال بھر ان کے پاس مطالبہ کیلئے جاتا رہا لیکن وہ شکایت کرتا ہے کہ آخر ایک دن انہوں نے مجھے یہ جواب دے دیا