انوارالعلوم (جلد 14) — Page 385
انوار العلوم جلد ۱۴ جماعت احمدیہ کے خلاف ۔۔۔۔۔۔ میاں فخر الدین ملتانی کا حصہ پوری نہ ہوتی ۔ اوّل تو خود تم کو پولیس نا جائز طور پر استعمال کر سکتی تھی ۔ دوسرے اِس بات کے علم پر وہ کسی اور کو استعمال کرنے کی کوشش کرتی ۔ اس بہ ۔ اِس پر اُس نے کہا کہ اب میرا دل خوش ہو گیا ہے۔ اب دیکھو، اُسے ایسی صورت میں سزا دی سزا دی گئی تھی کہ گلی طور پر اس کا یہ مجرم ثابت نہ تھا ، مگر چونکہ اُس کے خلاف بعض اور باتیں ثابت تھیں جو اُسے سزا کا مستحق بنا دیتی تھیں جن کی سزائیں دوسرے اوقات میں یقیناً اس سے کم دیتا۔ لیکن اس صورت حالات میں میں نے مناسب سمجھا کہ اس سزا کو جماعت سے اخراج کی سزا میں بدل دوں ۔ وہ خود تسلیم کرتا ہے کہ پولیس کے سے بعض افسروں نے اُسے روں نے اُسے لالچ دی اور یہ ثابت ہے کہ وہ اُس وقت جماعت کے بہ کے بعض محکموں ۔ شا کی تھا اور معمولی شا کی نہیں بلکہ سرکاری عدالتوں میں جانے کیلئے تیار تھا اور اس کی کوشش کر رہا تھا، چنانچہ ان پولیس افسروں نے یہ بھی کہا کہ اس مقدمہ میں بھی ہم تمہاری مدد کریں گے ۔ پس باوجود یہ جاننے کے کہ اس کا جرم اس حد کا نہیں ، ایک اور خطرہ کو مدنظر رکھتے ہوئے میں نے اُسے اخراج از جماعت کی سزا دے دی ۔ مگر ساتھ ہی تمام متعلقہ افسروں کو بتا دیا کہ اگر کوئی اور جُرم اس کا ثابت نہ ہوا تو اس مقدمہ کے بعد اسے معاف کر دیا جائے گا اور یہ میری عمر میں پہلا ہی واقعہ ہے مگر میں مجبور تھا۔ ذرا غور تو کرو اگر ایک احمدی جا کر عدالت میں یہ جھوٹا بیان دے دیتا کہ مجھے جماعت نے بھیجا تھا تو جماعت کے وقار کو کس قد رصدمہ پہنچتا اور دشمن کو ایک آلہ مل جاتا کہ سلسلہ کو بدنام کرے اور اس الزام سے بریت کی کوئی صورت نہ ہوتی سوائے اس کے کہ اللہ تعالیٰ ہی کوئی ایسی صورت پیدا کر دیتا جیسی مارٹن کلارک کے مقدمہ میں ہوئی تھی مگر اُس وقت کے حالات اور تھے اور آج کے اور ہیں ۔ اُس وقت کے مجسٹریٹ نے گواہ کے دوسرے بیان کو صیح سمجھا تھا مگر اب یہ سمجھا جاتا کہ ملزم کو خرید لیا گیا ہے ۔ جیسا کہ ایک دوسرے مقدمہ میں ہوا کہ گواہوں نے سچی گواہی دی تو بعض اعلیٰ سرکاری حکام نے انہیں بلا کر اس قسم کے بیان دلانے چاہے کہ گویا خو د خلیفہ نے بلا کر ان کو رشوت دی اور ان کو خرید لیا۔ غرض میں نے اسے کہا کہ تمہیں بے شک قربانی کرنی پڑی ، مگر کیا تم یہ اقرار کر کے احمدی نہیں ہوئے تھے کہ تم احمدیت کیلئے ہر قسم کی قربانی کرو گے مگر یہ میری زندگی میں پہلا واقعہ ہے۔ چنانچہ بغیر اس کے کہ وہ کوئی درخواست پیش کرتا، میں نے میاں بشیر احمد صاحب، مولوی عبد الغنی صاحب اور خان صاحب مولوی فرزند علی صاحب کو اُسے بُلانے سے بھی قبل کہا تھا کہ گو وہ ملازمت سے ڈسچارج ہو چکا تھا مگر اُس تکلیف کی وجہ سے جو اُسے پہنچی میں چاہتا ہوں اس کیلئے کسی ملازمت کا