انوارالعلوم (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 363 of 642

انوارالعلوم (جلد 14) — Page 363

انوار العلوم جلد ۱۴ فضائل القرآن (۶) ہے۔ چنانچہ فرمایا۔ ان لوگوں سے کہہ دے کہ ایسی ہڈیوں کو وہی زندہ کرے گا جس نے ان کو پہلی دفعہ پیدا کیا تھا اور وہ ہر مخلو ما اور وہ ہر مخلوق کی حالت سے خوب واقف ہے۔ اس آیت سے ظاہر ہے کہ مردہ زندہ کرنے کو اللہ تعالیٰ نے ادنیٰ قرار دیا ہے اور پیدائش کو اعلیٰ قرار دیا ہے مگر اوپر کی ترتیب تسلیم کر لینے کی صورت میں پیدائش کو ادنی ماننا پڑتا ہے اور احیائے موتی کو اعلیٰ ۔ پھر اس ترتیب سے کوڑھیوں کو اچھا کرنا پرندے پیدا کرنے کی نسبت زیادہ مشکل قرار پاتا ہے۔ حالانکہ ڈاکٹر بھی چالموگرا آئیل کی پچکاریوں اور مالش وغیرہ سے کئی کوڑھیوں کو اچھا کر دیتے ہیں ۔ اب چاہئے تھا کہ جب کوڑھی اچھے ہو رہے ہیں تو ان کوڑھیوں کے اچھا ہونے سے پہلے چڑیاں اور کبوتر بھی بنے شروع ہو جاتے حالانکہ انہیں کوئی انسان نہیں بنا سکتا ۔ اگر کہا جائے کہ اس ترتیب سے مخاطب کو زیادہ فائدہ پہنچتا ہے تو یہ بھی درست نہیں ۔ کیونکہ اگر ایک یہودی کے سامنے حضرت مسیح چڑ یا پیدا کرتے تو کیا وہ اس سے زیادہ متاثر ہو سکتا تھا یا اس سے زیادہ متاثر ہو سکتا تھا کہ آپ کسی کوڑھی یا مادر زاد اندھے کو اچھا کر دیتے ۔ پس جس چیز سے وہ زیادہ متاثر ہو سکتا تھا چاہئے تھا کہ اسے پہلے رکھا جاتا مگر رکھا اسے بعد میں ہے ۔ ترتیب قرآنی کے لحاظ سے خلق طیر غرض ہمارے مخالف علماء جومعنی لیتے ہیں وہ ہر ترتیب کی رو سے غلط ٹھہرتے ہیں مگر اور احیائے موتی کے معنی ہمارے معنوں کی رو سے ترتیب پر کسی قسم کا اعتراض نہیں پڑتا ۔ ہم پرندے پیدا کرنے سے مراد روحانی آدمی پیدا کرنا لیتے ہیں اور یہ ایک حقیقت ہے کہ جب کوئی شخص یہ پوچھے کہ مرزا صاحب نے کیا کیا ؟ اور اس کے جواب میں یہ کہا جائے کہ انہوں نے ایک کام کرنے والی جماعت دنیا میں پیدا کر دی ہے تو بالعموم وہ کہہ دیتا ہے کہ یہ کونسا بڑا کام ہے۔ کیونکہ لوگوں کی نگاہ میں روحانی آدمی پیدا کر نا سب سے کم حیثیت رکھتا ہے اسی لئے اس کو پہلے رکھا ۔ پھر اَكْمَهَ یعنی اندھراتے کا علاج ہے یہ چونکہ ایک جسمانی چیز ہے اور ہر ایک کو نظر آ جاتی ہے اس لئے اسے بعد میں رکھا۔ اور برص چونکہ اس سے زیادہ سخت ہے اس لئے اسمہ کے بعد ابرص کا ذکر کر دیا۔ اور احیائے موتی کے معنی یہ ہیں کہ کوئی شخص با لکل مردہ ہونے کی حالت تک پہنچ جائے اور دعا سے زندہ ہو جائے ۔ برص والے اور اندھراتے والے کو گوسخت مرض ہوتا ہے مگر طاقت قائم ہوتی ہے۔ لیکن جس کی نبضیں چھوٹ جائیں اور پھر کسی نبی یا پاکباز انسان کی دعا سے زندہ ہو جائے وہ بڑا معجزہ ہوتا ہے۔ پس