انوارالعلوم (جلد 14) — Page 346
انوار العلوم جلد ۱۴ فضائل القرآن (۶) چاہئے کہ اس میں تو ان کی کوئی خصوصیت نہیں کہ پہاڑ اُن کیلئے مسخر تھے۔ کیونکہ میں قرآن کریم سے ثابت کر چکا ہوں کہ زمین و آسمان میں جو کچھ ہے یہ سب کا سب خدا تعالیٰ نے انسان کیلئے مسخر کر دیا ہے۔ ہاں جس ملک کا خدا تعالیٰ کسی کو بادشاہ بنا دیتا ہے اُس میں اُسے عام انسانوں سے زیادہ عظمت حاصل ہوتی ہے ۔ پس گوزمین و آسمان کی چیزیں حضرت داؤد کیلئے اسی طرح مسخر تھیں جس طرح عام بنی نوع انسان کیلئے ۔ لیکن حضرت داؤد کو ایک زائد خصوصیت یہ حاصل تھی کہ خدا تعالیٰ نے ان کو بادشاہ بھی بنادیا تھا۔ پس گو تسخیر بعینہ وہی ہے جو ہمارے لئے ہے مگر اس تسخیر کی عظمت میں فرق ہے۔ سے بتاتا ہوں کہ اس کے اور جبال سردارانِ قوم کو بھی کہتے ہیں سے بھی ہیں۔ چنانچہ جھیل کے معنی لفت میں ۔ ۔ - سَيِّدُ الْقَوْمِ کے لکھے ہیں ۔ 19 پس حضرت داؤد کیلئے جبال مسخر کر دیئے کے معنی یہ تھے کہ حضرت داؤد علیہ السلام یہود کے وہ پہلے بادشاہ تھے جنہوں نے اردگرد کے قبائل پر فتح پائی اور وہ ان کے ماتحت ہو گئے ۔ حضرت داؤد علیہ السلام سے پہلے کوئی بادشاہ ایسا نہیں ہوا جس نے اپنی قوم کے علاوہ دوسری اقوام پر بھی حکومت کی ہو۔ لیکن حضرت داؤد پہلے بادشاہ ہیں جن کے ارد گرد کے حکمران ان کے مطیع ہو گئے تھے ۔ اگر کوئی کہے کہ قرآن میں تو يُسَبِّحْنَ کا لفظ آتا ہے۔ تم اس کے معنے مطیع کے کس طرح کرتے ہو؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ جبال چونکہ مؤنث ہے اس لئے يُسَبِّحْنَ کا لفظ آیا ہے ورنہ سردارانِ قوم کے معنے کو ملحوظ رکھتے ہوئے اس کا مطلب یہی ہے کہ وہ قو میں آپ کی مطیع ہوگئی تھیں ۔ پرندوں کی تسبیح کا قرآن میں کہیں ذکر نہیں جاتی رہے طیور کو ان کیلئے تسبیح قرآن میں آئی ہی نہ نہیں ۔ اور اس امر کا کہیں ذکر نہیں کہ وہ حضرت داؤد کے ساتھ تسبیح کیا کرتے تھے ۔ دراصل لوگوں کو عربی زبان کے ایک معمولی قاعدہ سے ناواقفیت کی وجہ سے دھوکا لگ گیا اور وہ خیال کرنے لگے کہ جبال کے ساتھ طیر بھی تسبیح کیا کرتے تھے ۔ حالانکہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے جو کچھ فرمایا ہے وہ یہ ہے کہ وَسَخَّرْنَا مَعَ دَاوُدَ الْجِبَالَ يُسَبِّحْنَ وَالطَّيْرَ یہاں طَيْرَ پر زبر ہے اور ز بر دینے والا سخَّرَ کا لفظ ہے ۔ مطلب یہ ہے کہ ہم نے داؤد کے لئے پہاڑ مسخر کر دیئے جو تسبیح کرتے تھے۔ اسی طرح ہم نے طیر بھی مسخر کر دیئے یہاں کسی تسبیح کا ذکر نہیں ۔ صرف اتنے