انوارالعلوم (جلد 14) — Page 338
انوار العلوم جلد ۱۴ فضائل القرآن (۶) بیٹھ جاتے ہیں اور کہتے ہیں یہی حقیقت ہے۔ اگر یہود کے متعلق یہ کہا گیا ہے کہ خدا تعالیٰ نے انہیں بندر بنا دیا تو وہ کہتے ہیں کہ واقعہ میں انسانی شکل مسخ کر کے انہیں بندر بنا دیا گیا تھا۔ اور اگر یہ آئے کہ انہیں سور بنا دیا گیا تھا تو وہ کہنے لگ جاتے ہیں کہ واقعہ میں وہ سو رہن گئے تھے۔ اگر یہ ذکر آئے کہ خدا عرش پر بیٹھا ہے تو یہ کہنے لگ جائیں گے کہ اس کے واقعہ میں کھٹنے ہیں اور وہ کسی تخت پر بیٹھا ہے اور اس سے غرض ان کی یہ ہوتی ہے کہ وہ فتنہ پیدا کریں ۔ وَابْتِغَاءَ تاویلہ اور حقیقت سے پھرانے کیلئے وہ ایسا کرتے ہیں۔ تاویل کے معنی پھرانے کے ہوتے ہیں چاہے حقیقت سے دور لے جانے کے معنوں میں ہو یا حقیقت کی طرف لے جانے کے معنوں میں ہو مگر یہاں وَ ابْتِغَاءَ تَأْوِيلِہ کے معنی حقیقت سے دور لے جانے کے ہیں ۔ یعنی استعارے کو وہ حقیقت قرار دے کر لوگوں کو اصل معنوں سے دور لے جاتے ہیں ۔ حالانکہ وہ استعارہ ہوتا ہے اور استعارہ کی وجہ سے اس کا مفہوم خدا ہی بیان کر سکتا ہے جو عالم الغیب ہے۔ تم خود کس طرح سمجھ سکتے ہو ۔ اگر کہو کہ پھر ہمیں استعاروں کے مفہوم کا کس طرح پتہ لگے؟ تو فرمایا وَالرَّاسِخُونَ فِی الْعِلْمِ ہم نے ان کا مفہوم قرآن میں بیان کر دیا جو سمجھنے والے ہیں اُن کے سامنے جب دونوں آیات آتی ہیں وہ بھی جن میں استعارہ ہوتا ہے اور وہ بھی جن میں حقیقت ہوتی ہے تو وہ کہتے ہیں كُلٌّ مِّنْ عِنْدِ رَبِّنَا ۔ وہ آیت بھی خدا کی طرف سے ہے جو استعارے والی ہے اور وہ آیت بھی اس کی طرف سے ہے جو اسے حل کرنے والی ہے اور نا ممکن ہے کہ ان دونوں میں اختلاف ہو۔ مثلاً اگر ہم کہیں کہ زید گدھا ہے اور پھر کہیں کہ زید نے فلاں کتاب نقل کر کے دی ہے تو اس صورت میں اگر کوئی دوسرا اس استعارے کو حقیقت قرار دیتے ہوئے سوال کرے کہ کیا زید چوپایہ ہے؟ تو اُسے دوسرے فقرہ کو جس میں اُس کی طرف کتاب کا نقل کرنا منسوب کیا گیا ہے جھٹلا نا پڑے گا۔ لیکن اگر ہم کہہ دیں کہ دونوں فقرے صحیح ہیں تو لازماً استعارہ کو استعارہ کے معنوں میں لانا پڑے گا اور حقیقت کو حقیقت کے معنوں میں ۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَالرَّاسِخُونَ فِي الْعِلْمِ یہ کہتے ہیں کہ كُلٌّ مِّنْ عِنْدِ رَبِّنَا یعنی اے بھلے مانسو ! جو استعارے کو حقیقت قرار دیتے ہو کیا تم اس امر کو نہیں جانتے کہ جب تم استعارہ کو حقیقت قرار دو گے تو قرآن کریم کی بعض آیات جھوٹی ہو جائیں گی اور وہ سچی ثابت نہیں ہو سکتیں جب تک استعارہ کو استعارہ کی حد میں نہ رکھا جائے ۔ حالانکہ وہ دونوں خدا کی طرف سے ہیں اور دونوں سچی ہیں اور جب دونوں باتیں سچی ہیں تو لازماً ماننا پڑے گا کہ ان میں سے