انوارالعلوم (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 305 of 642

انوارالعلوم (جلد 14) — Page 305

انوار العلوم جلد ۱۴ مستورات سے خطاب عروسه سے پہلے تم میں ایک عمر گزاری ہے اور تم اقرار کرتے ہو کہ میں نے بندوں پر کبھی جھوٹ نہیں بولا ۔ تو کیا جب میں رات کو سو یا صبح اُٹھ کر خدا پر جھوٹ بولنے لگ گیا ؟ رسول کریم آنے کی امانت اور دیانت کا یہ حال تھا کہ حضرت خدیجہ جو مکہ میں سب سے زیادہ مال دار عورت تھیں اور آپ کنگال اور آپ کے کنگال ہونے کا یہ ثبوت تھا۔ عرب کا دستور تھا کہ اپنے بچے باہر دائیوں کے پاس بھیج دیتے تھے تو اس سال جو دائیاں مکہ میں بچے لینے آئیں تو ہر دائی آپ کے لیجانے سے انکار کرتی رہی کیونکہ دائیاں جب بچے پال کر لاتیں تو اُن کو خوب انعام واکرام ملتا ۔ اُن کا خیال تھا کہ یہاں سے ہم کو کیا ملے گا۔ چنانچہ مائی حلیمہ بھی ایک دفعہ آپ کو دیکھ کر چھوڑ گئیں لیکن پھر جب شہر میں دوسرا کوئی بچہ نہ ملا تو پھر واپس آ کر وہی بچہ لے گئیں سے تو آپ کی مالی حالت یہ تھی کہ دایہ بھی نہ ملتی تھی ، پھر جب والدہ فوت ہو گئیں تو اپنے چچا کے پاس رہے، گویا وہ تمام زمانہ بے کسی کی حالت میں گزارا۔ چا کے بچے کھانے پینے کے وقت شور و شر کرتے لیکن آپ آرام سے ایک طرف بیٹھے رہتے ہے کیونکہ چچا کے لڑکے جانتے تھے کہ یہ تو ہمارے ٹکڑوں پر پل رہا ہے اصل مالک تو ہم ہیں ۔ اکثر آپ کے چچا کہتے بچہ تو نہیں ہنستا کھیلتا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ چچی کے دل میں بھی وہ محبت نہ تھی ۔ آپ کے مقابلہ میں خدیجہ بہت مالدار عورت تھی ، کئی تو اُن کے غلام تھے ، اُن کی تجارت کے قافلے دُور دُور جاتے ، اُن کی عادت تھی کہ اپنے غلاموں سے سب حالات دریافت کرتی رہتیں ۔ رسول کریم آپ کے پاس نوکر ہو گئے اور ان کو ایک قافلہ کے ساتھ باہر بھیجا گیا۔ جب واپس آئے تو بہت نفع ہوا انہوں نے جب آپ کی نسبت دریافت کیا تو غلاموں نے کہا کہ پہلے لوگ بہت سے نفعے خود رکھ لیتے تھے لیکن ہم نے ان کو بہت امین پایا ہے ۔ وہ آپ کی تعریف سن کر اس قدر متا ثر ہوئیں کہ اپنے چچا کو بلا کر پیغام شادی بھیجا۔ رسول کریم ﷺ نے کہا کہ میرے چچا سے پوچھ لو اگر وہ رضا مند ہوں تو پھر میں نکاح کرلوں گا ۔ پھر چا کی رضا مندی سے اپنا نکاح حضرت خدیجہ سے کر لیا ہے۔ آپ کی امانت اور دیانت کا یہ حال تھا کہ تھوڑے ہی عرصہ میں حضرت خدیجہ نے آپ کے اس جو ہر کو پہچان لیا اور حضرت خدیجہ نے اپنا تمام نے اپنا تمام مال وزر آپ کے سپرد کر دیا۔ جب حضرت خدیجہ نے کہا کہ یہ میرا تمام مال آپ کا ہے تو آپ نے فرمایا کہ خدیجہ سچ کہتی ہو۔ پھر جس طرح میرا اختیار ہے میں کروں؟ پس آپ نے کہا کہ سب سے پہلے یہ جو غلام ہیں ان کو آزاد کر دو۔ حضرت خدیجہ کے دل پر آپ کی نیکی کا اس قدراثر تھا کہ انہوں نے کہا بے شک آپ کو اختیار ہے۔ ان رض صلى الله عروسة ۔