انوارالعلوم (جلد 14) — Page 303
انوار العلوم جلد ۱۴ مستورات سے خطاب ہیں مگر الحمد شریف یعنی سورۃ فاتحہ ہر رکعت میں فرض ٹھہرائی ۔ پس ہم یہ دیکھتے ہیں کہ اس سورۃ کے اس قدرسکھانے کی کیا وجہ ہے؟ سو وہ آیت ہے اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ - صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ یعنی یا اللہ ! ہم کو سیدھا راستہ دکھا ۔ راستہ اُن لوگوں کا جن پر تو نے انعام کیا ۔ اور رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ کوئی نماز بغیر سورۃ فاتحہ کے نہیں ہو سکتی ۔ اب یہ دیکھنا ہے کہ یہ سیدھا راستہ کونسا ہے اور قرآن شریف اس کی کیا تشریح کرتا ہے سورۃ النساء میں فرمایا ۔ وَلَوْ أَنَّا كَتَبْنَا عَلَيْهِمْ أَنِ اقْتُلُوا أَنْفُسَكُمْ أَوِاخْرُجُوا مِنْ دِيَارِكُمْ مَّا فَعَلُوهُ إِلَّا قَلِيلٌ مِّنْهُمْ وَلَوْأَنَّهُمْ فَعَلُوا مَا يُوعَظُونَ بِهِ لَكَانَ خَيْرًا لَّهُمُ وَأَشَدَّ تَثْبِيتًا وَ إِذًا لَّآتَيْنَهُم مِّنْ لَّدُنَّا اَجْرًا عَظِيمًا وَلَهَدَيْنَهُمْ صِرَاطًاً مُّسْتَقِيماً ، وَمَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَالرَّسُولَ فَأُولئِكَ مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ مِّنَ النَّبِيِّنَ وَالصِّدِّيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ وَالصَّلِحِينَ وَحَسُنَ أُولَئِكَ رَفِيقًا o ذَلِكَ الْفَضْلُ مِنَ اللَّهِ وَكَفَى بِاللَّهِ عَلِيمًا" مسلمانوں کو سمجھ لینا چاہئے کہ اگر ہم لکھ دیتے اُن پر کہ قتل کرو اپنے نفسوں کو ۔ یا نکل جاؤ اپنے گھروں سے ، نہ کرتے وہ اس کو سوائے چند ایک کے اُن میں سے ۔ اور اگر وہ کرتے جس کی وہ نصیحت دیئے گئے تھے البتہ ہوتا بہتر اُن کیلئے اور زیادہ پختہ ہوتے ثابت قدمی میں اور تب ہم دیتے اُن کو اپنے ہاں سے اجر بڑا ۔ اور البتہ ہدایت کرتے ہم اُن کو راہِ راست کی ۔ اور جو اطاعت کرتے ہیں اللہ اور رسول کی ۔ پس یہ لوگ ساتھ اُن کے ہیں کہ انعام کیا جن پر نبیوں اور صدیقوں اور شہیدوں اور نیک لوگوں میں سے اور اچھے ہیں یہ رفیق ۔ یہ فضل ہے اللہ کی طرف سے اور کافی ہے اللہ جاننے والا ۔ یہ اللہ تعالیٰ کا انعام ہے۔ دیکھو خدا تعالیٰ خود تو سکھاتا ہے کہ مجھ سے طلب کرو۔ اور وہ طلب کرنا کیسا فرض ٹھہرایا کہ اس کے بغیر نماز ہی نہیں ہو سکتی ۔ اگر کوئی نبی ہو ہی نہیں سکتا تھا تو پھر پانچ وقت یہ دعا کیوں سکھائی کوئی عقلمند انسان بھی ایسا کرنا پسند نہیں کرتا کہ جس کام کو کرنا نہ ہو اُس کو کہے تو وہ خدا ایسا کیوں کرتا ؟ ایک قصہ ہے کہ ایک آدمی اپنی کھڑکی میں بیٹھا ہوا تھا کہ ایک لڑکے نے ایک کتے کو روٹی دکھا کر بلایا ۔ جب کتا پاس آیا تو لڑکے نے اُس کو ڈنڈا مارا۔ وہ آدمی جو بیٹھا ہوا دیکھ رہا تھا اُس کو لڑکے کی اس حرکت پر بہت غصہ آیا اور اُس نے لڑکے کو پیسہ دکھا کر بُلایا ۔ جب لڑکا اُس کے پاس آیا تو اُس نے اُس کو مارا ۔ لڑکا رویا اور کہا کہ پیسہ